اپنے ایک بیان میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے اور زیادہ تر فوجی مقاصد حاصل کیے جا چکے ہیں، اسی لیے واشنگٹن اب اپنی موجودگی محدود کرنے اور واپسی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکا جلد ایران سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ایران کی موجودہ حکومت کو اس حد تک کمزور کیا جائے کہ وہ خطے میں مزید کسی جارحانہ اقدام کی پوزیشن میں نہ رہے۔
نائب صدر کے مطابق امریکی قیادت ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو کچھ عرصہ مزید جاری رکھنے پر غور کر رہی ہے تاکہ حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم بنایا جا سکے اور ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید نقصان پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے صورتحال بہتر ہوگی، توانائی کی قیمتوں میں بھی کمی آنا شروع ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے انتہائی نامناسب الفاظ کا استعمال
انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت، خاص طور پر توانائی کی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب نہ کرے۔







