جیل جانے سے کچھ دیر قبل سرکوزی نکولس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک طویل پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ آج جیل جانے والا کوئی سابق صدر نہیں، بلکہ ایک بے گناہ شخص ہے۔ مجھے نفرت اور انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ میں لا سانتے جیل کی دیواروں کے اندر قدم رکھنے والا ہوں، میری سوچیں تمام فرانسیسی مرد و خواتین کی طرف جاتی ہیں، ہر طبقے اور ہر خیال کے لوگوں کی طرف۔
انہوں نے لکھا کہ میں اس عدالتی اسکینڈل، اس دس سالہ اذیت ناک سفر کو بے نقاب کرتا رہوں گا جو میں سہہ رہا ہوں۔
یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں غیر قانونی فنڈنگ کا الزام لگایا گیا، حالانکہ ایک یورو کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ یہ عدالتی کارروائی ایک ایسے جعلی دستاویز پر مبنی تھی جس کا جھوٹ ثابت ہوچکا ہے۔
نکولس نے لکھا کہ میں کسی رعایت یا مہربانی کی درخواست نہیں کر رہا، میں شکایت نہیں کرتا، کیونکہ میری آواز اب بھی سنی جاتی ہے، میں خود پر ترس نہیں کھاتا، کیونکہ میری اہلیہ اور میرے بچے میرے ساتھ ہیں اور میرے دوست بے شمار ہیں۔
انہوں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ لیکن آج میں فرانس کے لیے ایک گہرا دکھ محسوس کر رہا ہوں، ایک ایسا ملک جو نفرت اور انتقام کے جذبے کے ہاتھوں ذلیل ہو رہا ہے۔
آخر میں اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں سچ جیتے گا، لیکن انہیں اس سچ کی قیمت بہت بھاری چکانی پڑی ہے۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ برسوں سے فرانسیسی عدالتوں میں زیرِ سماعت تھا۔ الزام یہ تھا کہ 2007 کی انتخابی مہم کے دوران قذافی حکومت سے لاکھوں یورو کی رقم خفیہ طور پر حاصل کی گئی۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ سرکوزی نے اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ تیار کیا، تاہم انہیں براہِ راست رقم وصول کرنے کے الزام سے بری کر دیا گیاتھا۔
فرانسیسی عدالت نے انہیں پانچ سال قید سنائی تھی جس میں سے ایک سال سخت قید اور باقی پروبیشن پر گزارے جائیں گے، تاہم ان کے وکلا نے قبل از وقت رہائی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ انہیں امید ہے کہ کرسمس سے پہلے سرکوزی رہائی پا سکتے ہیں۔
عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق جیل انتظامیہ نے سرکوزی کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ انہیں الگ سیل دیا گیا ہے جس کا رقبہ 9 سے 12 مربع میٹر ہے، حال ہی میں اس کی تزئین و آرائش کی گئی اور شاور کی سہولت بھی شامل کی گئی۔
انہیں ٹی وی رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے لیے وہ ماہانہ 14 یورو ادا کریں گے، جب کہ لینڈ لائن فون سے وہ محدود اوقات میں اہلِ خانہ سے رابطہ کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ نکولس سرکوزی، جو ہنگری سے آئے تارکِ وطن کے بیٹے ہیں، 2007 میں فرانس کے صدر بنے۔ انہوں نے کاروبار دوست اصلاحات اور معیشت کو نئی سمت دینے کے وعدے کیے۔ مگر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران نے ان کے منصوبوں کو بری طرح متاثر کیاتھا۔







