خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق لکورنو کا استعفیٰ غیر متوقع تھا اور یہ ایسے وقت میں آیا جب اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نئی حکومت کو گرانے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

 اتوار کو لکورنو نے اپنی کابینہ تشکیل دی تھی اور پیر کی دوپہر پہلا اجلاس ہونا تھا لیکن اسی صبح انہوں نے صدر ایمانویل میکخواں کو استعفیٰ پیش کر دیا جسے منظور کر لیا گیا۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی نے صدر میکخواں سے فوری نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ صدر کو بھی لازمی طور پر عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

 نیشنل ریلی کے رہنما جورڈن بارڈیلا نے کہا کہ استحکام بحال کرنے کے لیے قومی اسمبلی کو تحلیل کر کے انتخابات کرانا ناگزیر ہے۔

 فرانس انبووڈ پارٹی کی رہنما ماتھلد پانو نے کہا کہ ایک سال کے اندر تین وزرائے اعظم ناکام ہو چکے ہیں اور اب الٹی گنتی صدر میکخواں کے لیے شروع ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق فرانس اس وقت گہری غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ 1958 میں موجودہ ففتھ ریپبلک کے نظام کے قیام کے بعد ملک کو کبھی اتنے بڑے سیاسی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

 یہ نظام دراصل اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ صدر کے پاس زیادہ اختیارات ہوں تاکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے غیر مستحکم ادوار سے بچا جا سکے۔

 تاہم موجودہ صورتحال میں صدر میکخواں ایک ایسی پارلیمنٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو شدید تقسیم کا شکار ہے، جہاں مرکز اپنی اکثریت کھو چکا ہے اور دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔