عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق منگل سے اس قانون سازی پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعظم لیکورنو نے سوشلسٹ پارٹی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے متعدد رعایتیں دی ہیں، جن میں صدر ایمانوئل میکرون کی متنازع پنشن اصلاحات کو معطل کرنا بھی شامل ہے۔

اگر قانون سازوں نے اس بجٹ منصوبے کو مسترد کیا تو فرانسیسی حکومت ایک نئی سیاسی بحران کا سامنا کر سکتی ہے، جبکہ ملک کی ہیلتھ کیئر، پنشن اور ویلفیئر سسٹمز میں 30 ارب یورو تک کی فنڈنگ کمی پیدا ہو سکتی ہے۔

لیکورنو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ سوشل سیکیورٹی بجٹ بل مکمل نہیں، لیکن یہی بہترین ممکنہ حل ہے۔ اگر یہ پاس نہ ہوا تو سماجی خدمات، عوامی مالیات اور پارلیمنٹ کا کردار خطرے میں پڑ جائے گا۔

سوشلسٹ پارٹی کے رہنما اولیویئر فور نے پیر کے روز کہا کہ وہ اس بل کی حمایت کر سکتے ہیں، کیونکہ حکومت نے پنشن ریفارم کو 2027 کے صدارتی انتخابات کے بعد تک مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

دوسری جانب انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی اور بائیں بازو کی فرانس اںبوڈ دونوں نے بل کی مخالفت کا اعلان کر دیا ہے۔ اعتدال پسند دائیں بازو کی جماعتیں بھی اس بل کے خلاف یا ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے پر غور کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پنشن اصلاحات کو معطل کرنا اور ٹیکس بڑھانا سابقہ وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔

یورو زون کی دوسری بڑی معیشت فرانس پہلے ہی بجٹ خسارے میں کمی لانے کے دباؤ میں ہے، لیکن گزشتہ سال کے اسنیپ الیکشن کے بعد سیاسی عدم استحکام نے حکومتی کوششوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

لیکورنو کا کہنا ہے کہ اگر بل مسترد ہوا تو بجٹ خسارہ 17 ارب سے بڑھ کر 30 ارب یورو تک پہنچ جائے گا، جو 2026 کے پورے عوامی اخراجات کے منصوبے کو خطرے میں ڈال دے گا۔ اگر سال کے اختتام تک کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو حکومت کو عارضی فنڈنگ کے اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔

گزشتہ ایک سال میں بجٹ تنازعات کی وجہ سے تین وزرائے اعظم اپنی حکومتیں کھو چکے ہیں، جن میں سابق وزیراعظم مشیل بارنیئر بھی شامل ہیں جنہیں اپنے بجٹ بل پر عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔