ژاں نوئل بارو نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آج اُن افراد کے خلاف پابندیاں لگائی گئی ہیں جو مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری اور پرتشدد واقعات کے ذمہ دار ہیں۔
بارو کے مطابق اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ، آبادکار تنظیموں کے چار سربراہان اور 21 پرتشدد آبادکاروں کے فرانس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ مغربی کنارے کے انضمام کی فعال حمایت کرتے ہیں اور کھل کر اس کا دفاع کرتے ہیں۔ وہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام، غزہ میں بستیوں کے دوبارہ قیام اور فلسطینی اتھارٹی کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور اس کے خاتمے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔
France has banned Israel’s far-right Finance Minister, Bezalel Smotrich, from entering the country due to his support for the West Bank annexations that threaten a two-state solution. https://t.co/SDNxpibIc4
— POLITICOEurope (@POLITICOEurope) June 9, 2026
ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسیاں عالمی برادری کی بھاری اکثریت کے لیے ناقابلِ قبول ہیں جو اب بھی دو ریاستی حل کے لیے پُرعزم ہے۔
انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سموٹریچ حالیہ مہینوں میں فرانس میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنے والے دوسرے اسرائیلی وزیر ہیں۔
گذشتہ ماہ فرانس نے اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے اہم ارکان سمجھا جاتا ہے۔
آئرلینڈ نے بھی حالیہ دنوں میں ان دونوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔
برطانیہ نے گذشتہ سال جون میں ان دونوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ اسپین اور سلووینیا سمیت دیگر ممالک نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔







