عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چوری اتوار کی صبح پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی، جس میں تقریباً آٹھ تاریخی زیورات چرائے گئے۔ تازہ انکشافات کے مطابق چوری شدہ زیورات کی مالیت 88 ملین یورو (تقریباً 102 ملین امریکی ڈالرز) تک ہے۔

ذرائع کے مطابق چور صبح کے وقت ایک کرین لفٹر کے ذریعے دریائے سین کے رخ پر واقع میوزیم کی بلند دیوار تک پہنچے اور ایک کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

میوزیم میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے گیلری ڈی اپولون میں موجود شیشے کے شوکیس توڑے اور چند ہی منٹوں میں نادر زیورات لے کر موٹر سائیکلوں پر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق یہ پوری کارروائی صرف چار سے سات منٹ میں مکمل ہوئی۔ فرار کے دوران ایک تاج ان کے ہاتھ سے گر گیا جو سڑک کنارے معمولی نقصان کے ساتھ برآمد ہوا۔

فرانسیسی وزارت برائے ثقافت اور میوزیم انتظامیہ کے مطابق چوری شدہ اشیاء میں نپولین دور (19ویں صدی) کے متعدد شاہی زیورات شامل ہیں۔ ان میں کوئن امالیا اور کوئن ہورٹنس کے نیلم جڑے تاج، ہار اور بالیاں، امپریس ایوجینی کا تاج، اور امپریس میری لوئز کا زمرد جڑا ہار سمیت کئی نایاب نوادرات شامل ہیں۔

پیرس پبلک پراسیکیوٹر آفس نے واقعے کی تفتیش کے لیے درجنوں ماہر تفتیش کاروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ تفتیش سی سی ٹی وی فوٹیج، فرار کے راستوں، کرین لفٹر کے ماخذ اور ممکنہ معاونین کے سراغ پر مرکوز ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور ثقافتی حلقوں نے اس واقعے کو قومی ثقافتی ورثے پر حملہ قرار دیتے ہوئے واقعے کی جلد از جلد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔