وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ان فریقین سے بات کر رہا ہے جو معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ آیا پیش کردہ معاہدہ امریکی مفادات کے مطابق ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں جو ہمارے لیے تسلی بخش ہو، اگر نہیں تو وہ بعد میں خود ہی اس پر رضامند ہو جائیں گے۔ خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور دونوں ممالک مختلف ثالثوں کے ذریعے رابطے میں ہیں۔
خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں اور دونوں ممالک مختلف ثالثوں کے ذریعے رابطے میں ہیں۔
مزید پڑھیں: آبنائےہرمز عالمی گزرگاہ ہے، اسے کوئی بھی ملک کنٹرول نہیں کرسکتا: امریکی وزیرخارجہ
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگٹ نے بھی اس معاملے پر مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ کسی کمزور یا جلد بازی میں کیے گئے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ امریکی عوام کے لیے ایک بہتر معاہدہ چاہتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔







