غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق بوسٹن، میساچوسٹس کی امریکی ڈسٹرکٹ جج اینجل کیلی نے منگل کو ایک ہنگامی درخواست منظور کی، جو کئی ساؤتھ سوڈانی شہریوں اور ایک امیگرنٹ حقوق گروپ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ اس حکم کے تحت ٹی پی ایس کی مدت 5 جنوری کو ختم نہیں کی جا سکے گی، جیسا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش تھی۔
اس مقدمے کی قیادت افریقی کمیونٹیز ٹوگیدر نے کی، جس میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی پر الزام لگایا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر ساؤتھ سوڈانی شہریوں سے ٹی پی ایس ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی پی ایس ایک امریکی امیگریشن کی حیثیت ہے جو ان ممالک کے شہریوں کو دی جاتی ہے، جہاں قدرتی آفات، تنازعات یا دیگر غیر معمولی حالات کی وجہ سے وطن واپس جانا خطرناک ہو۔
ساؤتھ سوڈان کے لیے یہ عارضی تحفظ 2011 میں شروع ہوا، جب ملک نے باضابطہ طور پر سوڈان سے علیحدگی اختیار کی۔ یہ بعد میں بار بار تمدید کیا گیا، کیونکہ ملک میں جاری جنگ، بے گھر ہونے والے افراد اور علاقائی عدم استحکام برقرار رہا۔ ٹی پی ایس کے تحت اہل افراد کام کر سکتے ہیں اور انہیں جلاوطنی سے عارضی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
مقدمے میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ساؤتھ سوڈانی شہریوں کو ایسے ملک واپس بھیجنے کے خطرے میں ڈال رہی ہے، جہاں دنیا کے بدترین انسانی بحران میں سے ایک موجود ہے۔
لازمی پڑھیں: سعودی عرب کے ساتھ بحران میں یمن میں اپنی باقی ماندہ افواج کو رضاکارانہ طور پر واپس بلا رہے ہیں، یو اے ای
ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نویم نے 5 نومبر کو کہا تھا کہ ساؤتھ سوڈان اب ٹی پی ایس کے لیے شرائط پوری نہیں کرتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں امن قائم ہو چکا ہے اور واپس جانے والے شہریوں کی محفوظ واپسی ممکن ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بیان کی تردید کی اور کہا کہ انسانی مشکلات برقرار ہیں، اور کچھ علاقوں میں قحط بھی پایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ٹی پی ایس پر سخت رویہ اپنایا ہے اور اسی طرح دیگر ممالک کے شہریوں کے عارضی تحفظ ختم کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں، جن میں شام، وینزویلا، ہیٹی، کیوبا اور نکاراگوا کے شہری شامل ہیں۔







