عالمی خبررساں اداروں كے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ بدھ کی شب ایک درست اور ہدفی کارروائی میں ایرانی بحری کمان کے دیگر اعلیٰ افسران کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع كا كہنا تھا كہ تنگسیری وہ شخصیت تھے جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور جہاز رانی کو روکنے کی کارروائیوں کے ذمہ دار تھے۔
دوسری جانب تہران سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے صحافی توہید اسدی نے کہا کہ ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک تنگسیری کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دھیان رہے كہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا، کیونکہ حالیہ جنگ میں کئی اعلیٰ فوجی کمانڈر پہلے ہی شہید كیے جا چکے ہیں۔
🚨 UPDATE / WATCH : Iranian Revolutionary Guard Navy commander Ali Reza Tangsiri has died following an airstrike in Bandar Abbas. https://t.co/TAOZNmSsC7 pic.twitter.com/swgNgRPGW4
— Inside the conflict (@InsidConflict) March 26, 2026
یاد رہے کہ 28 فروری سے جاری امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران اسرائیل متعدد اعلیٰ ایرانی شخصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور سکیورٹی چیف علی لاریجانی بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی اور انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کی شہادت کا دعویٰ بھی اسرائیلی حملوں کے بعد سامنے آیا تھا۔
ادھر حالیہ دنوں میں اسرائیلی افواج نے ایران کی بحری صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ ہفتے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی بحری جہازوں پر حملے کیے گئے، جن میں میزائل سسٹمز سے لیس جہاز، معاونتی کشتیاں اور گشتی جہاز شامل تھے۔
ماہرین کے مطابق اگر تنگسیری کی شہادت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایران کی بحری حکمت عملی اور آبنائے ہرمز میں اس کے اثر و رسوخ پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔







