پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کرتا، تاہم سفارت کاری بھی اصولوں اور قومی مفادات کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایران ہمیشہ اپنی قوم کے تحفظ اور قومی سلامتی کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مسلسل ایسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں جو ایران کے لیے ناقابل قبول ہیں، تاہم اس کے باوجود ایران نے سفارتی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنا جواب گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دیا ہے۔
ایران کا جواب متوازن اور ذمہ دارانہ ہے، جس میں خطے کے استحکام اور عالمی سلامتی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک پیشہ ورانہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں نہ صرف پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ جنگ کے خاتمے، سمندری راستوں کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثے غیر قانونی طور پر امریکی دباؤ کے تحت روکے گئے ہیں، جن کی بحالی بھی ایران کے مطالبات کا حصہ ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے یورپی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی کسی بھی مداخلت سے خطے کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی سمجھتا ہے، اور کسی بھی عسکری اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی نہ صرف خطے کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی عدم استحکام پیدا کرے گی۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران نے امریکا کو ایک منصفانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش کی ہے، لیکن اگر اس کا مثبت جواب نہ آیا تو تہران اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایران دنیا کو دھوکا دے رہا ہے، ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

اس سے قبل غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا تھا کہ اگر امریکی صدر ایران کے جواب سے مطمئن نہیں ہوتے تو یہ ایران کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ تہران اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے ردعمل کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی مؤقف سے مطمئن نہیں ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔