برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس اور اتحادی ملکوں کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ٹونی بلیئر کو غزہ میں فلسطینیوں کو کنٹرول واپس سونپنے سے قبل، اقوام متحدہ اور خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ عبوری حکومتی کی قیادت سونپی جائے۔

رواں سال اگست میں ٹونی بلئیر نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران خطے سے متعلق منصوبوں پر بات چیت کر چکے ہیں۔ امریکی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ، اسٹیو وٹ کوف نے اس میٹنگ کو معنی خیز قرار دیا تھا، اگرچہ ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان منصوبوں میں بلیئر کو غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی نامی ایک باڈی کی قیادت سونپی جا سکتی ہے، جو اقوام متحدہ سے پانچ سال کے لیے غزہ میں اعلیٰ ترین سیاسی اور قانونی اختیار حاصل کرنے کی درخواست کرے گی۔

یہ منصوبہ مشرقی تیمور اور کوسوو میں قائم بین الاقوامی انتظامیہ کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ اتھارٹی مصر میں غزہ کی جنوبی سرحد کے قریب قائم کی جائے گی اور غزہ پٹی میں استحکام آنے کے بعد یہ اتھارٹی غزہ کے اندر منتقل ہو جائے گی۔

غزہ کی عبوری اتھارٹی میں بلیئر کی ممکنہ شمولیت کی خبریں اس وقت سامنے آئیں جب فلسطینی صدر محمود عباس نے اعلان کیا کہ وہ دو ریاستی حل کے لیے ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔

صدر عباس نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں حماس کا حکومتی قیادت میں کوئی کردار نہیں ہوگا اور اس اسے غیر مسلح کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ تنازع کے دوران مختلف فریقین کی جانب سے غزہ کے مستقبل کے لیے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔ فروری میں امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ پر طویل المدتی ملکیت کی پوزیشن اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔

جس میں فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی شامل تھی جو کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ بعد ازاں امریکہ اور اسرائیل نے کہا کہ اس میں رضاکارانہ ہجرت شامل ہوگی۔

مارچ میں امریکا اور اسرائیل نے عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ تعمیر منصوبے کو مسترد کر دیا تھا جس کے تحت غزہ میں موجود 21 لاکھ فلسطینی اپنی جگہ پر ہی رہیں گے اور ایک آزاد کیمٹی کے نگرانی میں زندگی بسر کریں گے ساتھ ہی ایک بین الاقوامی امن فورس وہاں تعینات کی جائے گی۔

جولائی میں نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں غزہ کے لیے ایک عبوری انتظامی کمیٹی کی تجویز دی گئی، جو فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں کام کرے گی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت نے اس منصوبے کی حمایت کی تھی۔

رواں ہفتے برطانیہ نے فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست کے طور پر تسلیم کیا اور تجویز پیش کرتے ہوئے برطانیہ اور دیگر ممالک نے ایک بار پھر دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، جس کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے جواب میں غزہ میں فوجی مہم کا آغاز کیا تھا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں کے بعد سے اب تک کم از کم 65,502 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے ان حملوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا ہے،لیکن اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔