ویڈیو میں کارکنوں کو گھٹنوں کے بل بیٹھے، ہاتھ بندھے اور پیشانیاں زمین پر رکھے دیکھا گیا، جس پر یورپ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس  پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کجا کالس سے درخواست کی ہے کہ بن گویر کے خلاف پابندیوں کا معاملہ یورپی وزرائے خارجہ کے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فلوٹیلا کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں میں حراست میں لینا، ان کی تذلیل کرنا اور انسانی وقار مجروح کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب آئرلینڈ اور اسپین نے بھی بن گویر پر پابندیوں کے مطالبے کی حمایت کردی ہے۔

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے گرفتار اطالوی کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل سے معافی مانگنے کا بھی کہا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مظاہرین کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل برداشت اور انسانی وقار کے منافی ہے۔

ادھر فرانس نے احتجاجاً اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جین نول بیروٹ نے کہا کہ ویڈیو پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے اور اسرائیل سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔جرمنی کے اسرائیل میں سفیر سٹیفن سیبرٹ نے بھی کارکنوں کے ساتھ سلوک کو  مکمل طور پر ناقابل قبول  قرار دیا۔

اسپین کے وزیر خارجہ جوس مینوئل الباریس نے اسرائیلی رویے کو شرمناک، غیر انسانی اور بھیانک قرار دیتے ہوئے میڈرڈ میں اسرائیلی سفیر کو طلب کیے جانے کی تصدیق کی۔

مزید پڑھیں: امریکا اور اسرائیل ایران میں  محمود احمدی نژاد  کو اقتدار کیوں دلانا چاہتے تھے؟

دلچسپ امر یہ ہے کہ بن گویر کی ویڈیو پر اسرائیلی حکومت کے اندر سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ بن گویر کا رویہ اسرائیلی اقدار اور روایات کے مطابق نہیں تھا، جب کہ وزیر خارجہ جدون ساعر نے بھی ان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا گزشتہ ہفتے ترکیہ سے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کشتی میں سوار 430 کارکنوں کو اسرائیل منتقل کردیا گیا تھا، جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کئی کارکنوں کو اشدود بندرگاہ پر حراست میں رکھا گیا۔

واضح رہے کہ اسرائیل 2007 سے غزہ کے تمام داخلی راستوں پر ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، جب کہ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد غزہ میں خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔