قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق دوحہ میں ہونے والے سالانہ سفارتی اجلاس دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ خطہ اس وقت نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور جنگ بندی کا حقیقی نفاذ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور غزہ میں پائیدار استحکام سے مشروط ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہکان فدان نے بھی فورم سے خطاب میں کہا کہ استحکام فورس کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، مگر اس کی کمانڈ، ڈھانچے اور شریک ممالک کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات اب بھی حل طلب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فورس کا پہلا مقصد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو الگ کرنا ہونا چاہیے تاکہ آگے کے مسائل حل ہو سکیں۔

واضح رہے کہ قطر، امریکہ اور مصر نے اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے لیے جو معاہدہ کرایا تھا، اس کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔ اس مرحلے میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے دستبرداری اختیار کرنی ہے، عبوری انتظامیہ نے حکمرانی سنبھالنی ہے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

دوسری جانب عرب اور مسلمان ممالک اس فورس میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، کیونکہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ فورس بعض مواقع پر فلسطینیوں کے خلاف کارروائی پر مجبور ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ حماس غیر مسلح ہوگی اور ہتھیار ڈالنے والے ارکان کو غزہ چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم حماس اس تجویز کو متعدد بار مسترد کر چکی ہے۔

ترکیہ نے استحکام فورس میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، مگر اسرائیل اسے ناپسندیدگی سے دیکھتا ہے اور اسے حماس کے قریب سمجھتا ہے۔

 ہکان فدان نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کا واحد قابلِ عمل راستہ یہی ہے کہ تمام فریق امن مذاکرات میں خلوصِ نیت کے ساتھ شامل ہوں۔

قطری وزیراعظم نے بتایا کہ قطر سمیت جنگ بندی کے ضامن ممالک ترکیہ، مصر اور امریکہ معاہدے کے اگلے مرحلے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم ان کے مطابق اگلا مرحلہ بھی محض عبوری ہوگا۔ انہوں نے دونوں قوموں کے لیے انصاف پر مبنی پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔

مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق، دوحہ فورم کے موقع پر مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے قطری وزیراعظم سے ملاقات کر کے جنگ بندی سے متعلق پیش رفت پر گفتگو کی۔

 بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں غزہ کی زمینی صورتحال اور شرم الشیخ امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کوششوں کے تسلسل پر اتفاق کیا گیا۔

مصر نے غزہ کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکاروں کو تربیت دینے کا اعلان بھی کیا ہے اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جو ممکنہ طور پر استحکام فورس کے لیے اپنے دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔