اسرائیلی غیر منافع بخش ادارے PLANETech کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سربراہ یاروسلاف ایفیموف نے کہا ہے کہ چین اور اسرائیل کے درمیان توانائی اور زراعت جیسے شعبوں میں وسیع تعاون کے مواقع موجود ہیں۔ PLANETech موسمیاتی تبدیلی سے متعلق جدید ٹیکنالوجیز پر کام کرنے والا ادارہ ہے اور اسرائیل انوویشن انسٹی ٹیوٹ کا حصہ ہے۔

یاروسلاف ایفیموف نے جنوری کے آخر میں چین کا پانچ روزہ دورہ کیا، جس کا مقصد اسرائیل کی ٹیکنالوجیکل ترقی اور انوویشن سسٹم کو فروغ دینا تھا۔

اس دوران انہوں نے انٹرنیشنل ایکولوجیکل اکانومی پروموشن ایسوسی ایشن اور چائنا سوسائٹی آف آٹوموٹیو انجینئرز سمیت متعدد چینی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اسرائیل کی تکنیکی صلاحیتوں اور ترقی پذیر ٹیکنالوجیز سے مکمل طور پر آگاہ نہیں، اسی لیے اسرائیل کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ چین کی ضروریات اور ترجیحات کو سمجھے۔ سائنس، سائنس ہوتی ہے اور اس ہفتے مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ہم ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ بحران کے اثرات اور چین و امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بیجنگ اور تل ابیب کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ تاہم ایفیموف کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا مقصد کووِڈ-19 سے پہلے موجود مضبوط روابط کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔

بیجنگ میں اسرائیلی سفارت خانے میں منعقدہ ایک پریزنٹیشن کے دوران ایفیموف نے بتایا کہ PLANETech سے وابستہ کئی جدید ٹیک کمپنیاں زراعت، نیچر ریزروز، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ اس تقریب میں چینی نجی شعبے کے سرمایہ کاروں، این جی اوز کے نمائندوں اور گرین ٹیک ریسرچرز نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔


ایک چینی سرمایہ کار کے مطابق چونکہ امریکا چینی سرمایہ کاری سے دوری اختیار کر رہا ہے، اس لیے اسرائیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری شمالی امریکا تک رسائی کا متبادل راستہ بن سکتی ہے۔

دورے کے چند دن بعد ایفیموف نے بتایا کہ انہیں کئی چینی اداروں کی جانب سے فالو اپ پیغامات موصول ہوئے ہیں اور فریقین علم کے تبادلے، افرادی قوت کے اشتراک اور مشترکہ منصوبوں پر کام کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ سال تل ابیب میں چائنا-اسرائیل چانگژو انوویشن پارک کے قیام کی 10ویں سالگرہ کے موقع پر چین کے سفیر شاؤ جونژینگ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے اور انوویشن تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے باوجود چین اسرائیل کے ساتھ دوستی اور تکنیکی تعاون جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا چین کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانا  خطرناک  ثابت ہو سکتا ہے، ٹرمپ

یاد رہے کہ چین اور اسرائیل کے درمیان ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 2017 میں دونوں ممالک نے اپنے جامع اختراعی شراکت داری کے 25 سال مکمل ہونے کا جشن منایا تھا، جس کے تحت مشترکہ لیبارٹریوں، ٹیکنالوجی ٹرانسفر مراکز، انوویشن پارکس اور تحقیقی اداروں کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اسی سال گوانگ ڈونگ ٹیکنیون-اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا افتتاح بھی کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سائنسی و تعلیمی تعاون کی ایک اہم مثال ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ سیاسی تناؤ کے باوجود، چین اور اسرائیل کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون مستقبل میں بھی جاری رہنے کے امکانات روشن ہیں۔