خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ وہ امدادی پیکج میں ایک ارب ڈالر کا حصہ ڈالے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، ازبکستان اور کویت بھی مالی معاونت فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

ان  کا کہنا تھا کہ پانچ ممالک نے جنگ سے متاثرہ فلسطینی علاقے میں قائم کی جانے والی بین الاقوامی استحکامی فورس میں فوجی دستے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسووو اور البانیہ نے فوجی تعاون کا وعدہ کیا ہے، جبکہ مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت میں معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ان  کے مطابق ابتدائی مرحلے میں فوجی دستے رفح میں تعینات کیے جائیں گے، جہاں امریکی انتظامیہ تعمیرِ نو کا آغاز کرنا چاہتی ہے،عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خرچ ہونے والا ہر ڈالر خطے میں استحکام اور ایک نئے، ہم آہنگ مستقبل کی جانب سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس اس بات کا ثبوت ہے کہ بہتر مستقبل کی بنیاد مشترکہ کاوشوں سے رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم اعلان کردہ 7 ارب ڈالر اس تخمینے سے کہیں کم ہیں جس کے مطابق دو سالہ جنگ کے بعد تباہ حال غزہ کی بحالی کیلئے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

انہوں  نے مزید بتایا کہ امریکا بورڈ آف پیس کیلئے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، تاہم اس رقم کے مصرف کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

نومنتخب بین الاقوامی استحکامی فورس کے سربراہ میجر جنرل جاسپر جیفرز کے مطابق منصوبے کے تحت غزہ میں 12 ہزار پولیس اہلکار اور 20 ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے تاکہ سکیورٹی اور عوامی نظم و نسق کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان  کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ ایک دن اس منصب پر نہیں ہوں گے، تاہم اقوام متحدہ موجود رہے گی، اور بورڈ آف پیس اس امر کو یقینی بنائے گا کہ عالمی ادارہ مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔