فلسطینی میڈیا کے مطابق صالح الجعفراوی غزہ شہر کے علاقے صبرہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد تباہ شدہ علاقوں کی رپورٹنگ کر رہے تھے، جب انہیں اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے نشانہ بنایا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیلی فوج کے ترجمان اور اسرائیلی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے صالح الجعفراوی کو بارہا دھمکیاں دی گئی تھیں۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد حماس نے غزہ میں سرگرم اسرائیل نواز گروہوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ ان گینگز پر الزام ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران اسرائیلی فوج سے ساز باز کی اور ان کے لیے مقامی معلومات فراہم کیں۔
مزید یہ کہ ان گروہوں پر غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد کو قبضے میں لے کر مہنگے داموں فروخت کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صالح الجعفراوی کی شہادت کے بعد صحافتی تنظیموں نے غزہ میں میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔







