خبر رساں ادارے روئٹرزکے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حماس کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے جواب میں کی گئی۔
طبی ذرائع کے مطابق ایک حملہ بے گھر خاندانوں کی خیمہ بستی پر کیا گیا جس میں کم از کم چار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ جنوبی شہر خان یونس میں ایک اور حملے میں پانچ افراد مارے گئے۔
اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے کہا کہ حالیہ گھنٹوں میں اسرائیلی افواج نے بیت حنون کے علاقے میں کارروائی کی، جو ان کے بقول جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کا ردعمل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد ایک سرنگ سے نکل کر نام نہاد ییلو لائن کے مشرق میں ظاہر ہوئے۔
اسرائیلی حکام نے اتوار کے حملوں کو درست نشانے پر مبنی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق قرار دیا۔ ان کے مطابق اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے حماس کئی بار معاہدے کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔
دوسری جانب حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد غزہ جنگ کا خاتمہ تھا۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایک عمارت کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر مسلح افراد سرنگ سے نکل کر پناہ لیے ہوئے تھے، اور فضائی حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی فائرنگ میں کم از کم 600 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں اس کے چار فوجی بھی مارے گئے ہیں۔







