فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق غزہ شہر میں ایک اسکول کے قریب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شخص شہید جب کہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے غزہ سٹی میں مسلح افراد کو نشانہ بنایا، تاہم شہری ہلاکتوں سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے علاقے المواصی میں بے گھر افراد کے ایک خیمے پر بھی اسرائیلی فضائی حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 4 افراد شہید ہوئے، جن میں 10 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔
بعد ازاں غزہ شہر کے زیتون محلے میں اسرائیلی فائرنگ سے 6 سالہ بچہ شہید ہو گیا، جبکہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں ایک اور شخص جان کی بازی ہار گیا۔ بعد میں ایک مزید شہادت کی تصدیق کے بعد بدھ کے روز شہدا کی تعداد کم از کم 8 ہو گئی۔
اسرائیلی فوج نے ان تازہ واقعات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ حملے اس کے باوجود جاری ہیں کہ اسرائیل اور حماس نے گزشتہ سال اکتوبر میں امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم 1,084 فلسطینی شہید اور 3,491 زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک مجموعی طور پر 73,110 فلسطینی شہید جب کہ 173,599 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، قشم جزیرے اور بندرعباس میں دھماکے: ایرانی میڈیا
دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد غزہ میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کو مزید وسعت دے دی ہے، جس سے شہریوں اور امدادی سرگرمیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور متعدد فلسطینی خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ادھر غزہ میں انسانی بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق غزہ کی 130 سے زائد طبی سہولیات میں چکن پاکس کے تقریباً 9,300 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بے گھر افراد کی شدید بھیڑ، خراب صفائی کی صورتحال اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔







