مبصرین کے مطابق تقریباً 70 ہزار اہل ووٹرز پر مشتمل یہ انتخابی عمل زیادہ تر علامتی نوعیت کا ہے، تاہم اسے مستقبل کے انتخابات کے لیے ایک اہم ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ انتخابات فلسطینی اتھارٹی کے تحت منعقد کیے گئے، جس کی قیادت محمود عباس کر رہے ہیں، جو فتح کے سربراہ بھی ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں حماس نے انتخابات میں کامیابی کے بعد فتح کو غزہ سے بے دخل کر دیا تھا اور 2007 سے اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ حماس دیر البلح میں ہونے والے ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرے گی یا نہیں۔ ماضی میں حماس بلدیاتی کونسلز کا تقرر خود کرتی رہی ہے اور مقامی انتخابات کی اجازت نہیں دیتی تھی، تاہم بعض امیدواروں کو حماس کے قریب سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ تنظیم نے باضابطہ طور پر کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔
ان انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ دو ریاستی حل کی حمایت کریں، جس کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست، اسرائیل کے ساتھ پرامن طور پر موجود ہو۔ تاہم حماس اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔
مقامی شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی بلدیاتی کونسل پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنائے گی، جو جنگ اور کنٹرول کی موجودہ صورتحال کے باعث شدید متاثر ہیں۔







