یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ تقریباً تین سال سے جاری جنگ، وسیع تباہی اور انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل کیا چاہتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا غزہ میں دوبارہ بستیاں بنانا عملی طور پر ممکن ہے؟ اگر ایسا ہوا تو بین الاقوامی قانون، خطے کی سیاست اور فلسطینیوں کے مستقبل پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
غزہ میں پہلے بھی اسرائیلی بستیاں تھیں؟
جی ہاں! اسرائیل نے 1967 کی عرب۔اسرائیل جنگ کے بعد غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں وہاں 21 اسرائیلی بستیاں قائم کی گئیں، جہاں تقریباً آٹھ ہزار سے زائد اسرائیلی آبادکار رہتے تھے، جب کہ غزہ کی فلسطینی آبادی اس وقت بھی لاکھوں میں تھی۔
یہ بستیاں اسرائیلی فوج کے سخت حفاظتی حصار میں قائم تھیں اور ان کے لیے الگ سڑکیں، سکیورٹی زون اور فوجی اڈے موجود تھے۔
پھر 2005 میں اسرائیل وہاں سے کیوں نکل گیا؟
سن 2005 میں اُس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے علیحدگی کا منصوبہ کے تحت غزہ سے تمام اسرائیلی فوج اور آبادکار واپس بلا لیے۔
اس فیصلے کے تحت تمام 21 بستیاں ختم کی گئیں، تقریباً 8,000 آبادکاروں کو اسرائیل منتقل کیا گیا اور اسرائیلی فوج نے اندرونی غزہ چھوڑ دیا۔
اس وقت اسرائیلی حکومت کا مؤقف تھا کہ غزہ میں بستیاں برقرار رکھنا سکیورٹی اور معاشی لحاظ سے انتہائی مہنگا اور مشکل ہو چکا تھا۔
اب دوبارہ بستیاں کیوں زیر بحث ہیں؟
اس کی کئی وجوہات بتائی جا رہی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ اسرائیل کی اندرونی سیاست ہے۔ وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بین گویر طویل عرصے سے غزہ میں دوبارہ آبادکاری کے حامی رہے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر اسرائیل غزہ میں مستقل سکیورٹی چاہتا ہے تو اسے وہاں دوبارہ اسرائیلی موجودگی قائم کرنا ہوگی۔ سموٹریچ کا دعویٰ ہے کہ شمالی غزہ میں تین نئی بستیوں کے ابتدائی منصوبے تیار کیے جا چکے ہیں۔
نیتن یاہو نے کیا کہا؟
ایک اسرائیلی ٹی وی انٹرویو میں جب نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا غزہ میں دوبارہ بستیاں قائم کی جائیں گی تو انہوں نے واضح انکار نہیں کیا۔ انہوں نے جواب دیاکہ سوال یہ ہے کہ آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں یا کام۔ اس مبہم جواب کو اسرائیلی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے اس امکان کو کھلا رکھنے کے اشارے کے طور پر دیکھا۔
کیا یہ صرف انتخابی سیاست ہے؟
کئی سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک انتخابی سیاست ہے، کیونکہ اسرائیل میں آئندہ انتخابات قریب آ رہے ہیں، سموٹریچ کی جماعت کو سرویز میں خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی۔ اسی لیے بعض مبصرین کے مطابق غزہ میں دوبارہ بستیوں کا نعرہ دائیں بازو کے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
اسی طرح نیتن یاہو بھی بدعنوانی کے مقدمات اور داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں سخت گیر مؤقف اختیار کرنا سیاسی طور پر فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے۔
کیا بین الاقوامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے؟
جی نہیں! عالمی قانون اس کی اجازت بالکل بھی نہیں دیتا، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف کے متعدد مؤقف کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔
اسی بنیاد پر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کی بیشتر بستیاں بھی عالمی سطح پر تسلیم نہیں کی جاتیں، اگرچہ اسرائیل اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا۔ اگر غزہ میں دوبارہ بستیاں قائم کی جاتی ہیں تو امکان ہے کہ انہیں بھی بین الاقوامی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔
سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہوگی؟
صرف قانونی نہیں بلکہ عملی۔ اگر غزہ میں دوبارہ بستیاں بنانی ہوں تو اسرائیل کو مستقل فوجی موجودگی رکھنا ہوگی، ہزاروں فوجی تعینات کرنے ہوں گے، آبادکاروں کی چوبیس گھنٹے حفاظت کرنی ہوگی، سڑکیں، بجلی، پانی اور دیگر انفراسٹرکچر دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ یہ تمام اقدامات نہ صرف مہنگے ہوں گے بلکہ مستقل مزاحمت کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔
فلسطینیوں کا کیا ہوگا؟
یہ سب سے حساس سوال ہے کہ فلسطینیوں کا کیا ہوگا؟ غزہ دنیا کے گنجان ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ جنگ کے باعث لاکھوں فلسطینی پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔
اگر اسرائیل وہاں نئی بستیاں قائم کرتا ہے تو فلسطینی آبادی کی مزید نقل مکانی کا خدشہ پیدا ہوگا۔ فلسطینی قیادت اس امکان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اسے اپنی سرزمین پر مستقل قبضے کی کوشش قرار دیتی ہے۔
امریکا کا کردار کیا ہوگا؟
اسرائیل کے لیے سب سے اہم بین الاقوامی اتحادی امریکا ہے۔ اگرچہ مختلف امریکی حکومتوں کی پالیسیاں مختلف رہی ہیں، لیکن غزہ میں نئی اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی کھلی حمایت واشنگٹن کی جانب سے سامنے نہیں آئی۔
امریکا مستقبل میں کیا مؤقف اختیار کرے گا، اس کا انحصار اس کی انتظامیہ، علاقائی صورتحال اور سفارتی ترجیحات پر ہوگا۔
یورپ کیا کرے گا؟
یورپی ممالک ماضی میں بھی مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اگر غزہ میں بھی ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو سفارتی دباؤ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ البتہ ماضی میں سخت بیانات کے باوجود عملی اقدامات محدود رہے ہیں۔
کیا عرب دنیا خاموش رہے گی؟
عرب ممالک پہلے ہی غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اگر اسرائیل باضابطہ طور پر نئی بستیاں بنانے کا اعلان کرتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، اسرائیل اور عرب ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی مسئلہ دوبارہ عالمی سفارت کاری کا مرکزی موضوع بن سکتا ہے۔
کیا واقعی بستیاں بن جائیں گی؟
یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اس وقت تک کوئی باضابطہ حکومتی منظوری سامنے نہیں آئی، تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا، بین الاقوامی دباؤ برقرار ہے، غزہ میں جنگ اور انسانی بحران جاری ہے۔
اس کے برعکس اسرائیلی حکومت کے اہم وزرا کے حالیہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ کم از کم حکومت کے ایک طاقتور دھڑے میں یہ خیال پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
Solomon s Pools is the latest flashpoint for illegal Israeli settlers trying to take over Palestinian areas. Israel claims it s a Jewish heritage site, as more Palestinians rally to defend the land pic.twitter.com/XiNQAuj9Yv
— TRT World (@trtworld) July 4, 2026
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
تجزیہ کار تین ممکنہ منظرنامے بیان کرتے ہیں۔ پہلایہ کہ یہ معاملہ صرف انتخابی نعروں تک محدود رہے۔ دوسرا یہ کہ اسرائیل شمالی غزہ میں مستقل فوجی بفر زون قائم کرے لیکن باضابطہ بستیاں نہ بنائے۔
تیسرا یہ کہ اگر سیاسی حالات سازگار ہوئے تو محدود پیمانے پر نئی اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی کوشش کی جائے، جس سے خطے میں ایک نیا سفارتی اور سکیورٹی بحران جنم لے سکتا ہے۔
ایک فیصلہ جو پورے مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل بدل سکتا ہے
غزہ میں دوبارہ اسرائیلی بستیاں قائم کرنے کی بحث محض چند رہائشی منصوبوں کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ فلسطین۔اسرائیل تنازع کے مستقبل، دو ریاستی حل، بین الاقوامی قانون اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست سے جڑا ہوا سوال ہے۔
فی الحال یہ منصوبہ عملی حقیقت نہیں بنا، لیکن اسرائیلی حکومت کے طاقتور حلقوں کی جانب سے اس کی کھلی حمایت نے واضح کر دیا ہے کہ غزہ کی جنگ ختم ہونے کے بعد اصل معرکہ صرف جنگ بندی کا نہیں ہوگا، بلکہ اس بات کا بھی ہوگا کہ غزہ کی زمین پر آئندہ کس کا اختیار ہوگا، کون وہاں رہے گا اور کیا دو دہائیاں پہلے ختم ہونے والی اسرائیلی آبادکاری ایک بار پھر واپس آ سکتی ہے؟






