رپورٹ کے مطابق اسرائیلی دفاعی حکام نے پارلیمنٹ (کینیسٹ) کی خارجہ و دفاعی امور کمیٹی کو بند کمرہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ فورس میں پاکستان، آذربائیجان اور انڈونیشیا کے فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی ویب سائٹ وائی نیٹ نیوز کے مطابق انڈونیشیا پہلے ہی اس مشن میں اپنی افواج بھیجنے کی پیشکش کر چکا ہے، جب کہ آذربائیجان نے بھی اس حوالے سے آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں نہ تو کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر تصدیق سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے غزہ میں پاکستانی افواج کی تعیناتی سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ اس حوالے سے وزارتِ خارجہ ہی باضابطہ مؤقف دے گی۔
غزہ میں گزشتہ دو سال سے جاری جنگ کے بعد عالمی سطح پر علاقے میں قیامِ امن اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ایک بین الاقوامی فورس تشکیل دینے کی تجاویز زیرِ غور ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔







