دوحہ میں الجزیرہ فورم کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل کا کہنا تھا کہ حماس سے اسلحہ حوالے کرنے کی بات دراصل گزشتہ ایک صدی سے فلسطینی مسلح مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک غزہ پر قبضہ برقرار ہے، غیر مسلح کرنے کی گفتگو ہمارے عوام کو اسرائیل کے لیے آسان ہدف بنا دے گی، جو جدید ترین بین الاقوامی اسلحے سے لیس ہے۔
خالد مشعل نے کہا کہ اگر اس معاملے پر سنجیدہ گفتگو کرنی ہے تو سب سے پہلے ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جو تعمیرِ نو، انسانی امداد اور اس بات کی ضمانت دے کہ غزہ اور صہیونی ریاست کے درمیان جنگ دوبارہ نہ بھڑکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک منطقی طریقۂ کار ہے اور حماس نے قطر، ترکیہ اور مصر کی ثالثی کے ذریعے اور امریکی حکام سے بالواسطہ مذاکرات میں، اپنے مؤقف کو واضح کیا ہے۔
حماس سربراہ نے کہا کہ حماس اسلحہ چھوڑنے کے بجائے طویل المدتی جنگ بندی کی تجویز دیتی ہے، جس میں پانچ، سات یا دس سال کی طویل خاموشی شامل ہو سکتی ہے، تاکہ یہ یقین دہانی ہو سکے کہ ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے، ثالث ممالک اس معاہدے کے ضامن بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ حماس کو مکمل طور پر غیر فوجی بنانے کا مطالبہ کیا تھا اور ناکامی کی صورت میں نتائج کی دھمکی دی تھی، تاہم حماس کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک اسلحہ ترک نہیں کیا جا سکتا۔
اکتوبر میں طے پانے والے امریکی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں امریکا حماس کو غیر مسلح کرنے اور بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی پر بات کرنا چاہتا ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود غزہ پر تقریباً روزانہ حملے جاری ہیں۔ اسرائیل اب تک مشرقی غزہ میں قائم نام نہاد ییلو لائن سے انخلا پر بھی آمادہ نہیں ہوا۔
رپورٹس کے مطابق تازہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد اسرائیلی حملوں میں کم از کم 576 فلسطینی شہید اور 1543 زخمی ہو چکے ہیں۔
خالد مشعل نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ حماس ضمانتیں دے یا نہ دے، بلکہ مسئلہ اسرائیل ہے جو فلسطینیوں سے اسلحہ چھین کر اسے مقامی ملیشیاؤں کے ہاتھ میں دے کر افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع کی جڑ قبضہ ہے اور ایک قابض قوت کے خلاف مزاحمت کرنا فلسطینی عوام کا حق ہے، جو بین الاقوامی قانون اور الہامی مذاہب میں بھی تسلیم شدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا غزہ کے معاملے پر ’بورڈ آف پیس‘ کا اجلاس 19 فروری کو منعقد کرنے پر غور، روئٹرز
خالد مشعل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد فلسطینی مسئلہ ایک بار پھر عالمی سطح پر حل طلب سوال بن چکا ہے۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی بڑھتی تعداد کو خوش آئند مگر ناکافی قرار دیا۔
انہوں نے عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارتی محاذ پر دفاعی پالیسی سے نکل کر جارحانہ حکمتِ عملی اپنائیں اور اسرائیل کو ایک عالمی سطح پر تنہا اور ناجائز ریاست کے طور پر بے نقاب کریں، جیسا کہ جنوبی افریقہ کے نسل پرست نظام کے ساتھ ہوا تھا۔
خالد مشعل کا کہنا تھا کہ فلسطینی ایک جائز مقدمے کے مالک ہیں، جب کہ جنگی جرائم اور نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد ہوتا ہے۔







