عالمی خبررساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی منصوبے کے تحت امریکا اپنے عرب اور دیگر بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک عارضی انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ فورس غزہ میں موجود فلسطینی پولیس فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرے گی، جب کہ اس حوالے سے اردن اور مصر سے مشاورت بھی کی جائے گی۔
شاہ عبداللہ نے بی بی سی پینوراما کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سوال اٹھایا کہ یہ سکیورٹی فورس غزہ میں جا کر کیا کرے گی؟ میں امید کرتے ہوں کہ اس فورس کا کردار محض امن و امان کی بحالی (پیس کیپنگ) تک محدود رہے گا، کیونکہ اگر اسے طاقت کے بل پر امن مسلط کرنے کا ٹاسک دیا گیا تو کوئی بھی ملک اس میں شامل ہونا نہیں چاہے گا۔
شاہ عبداللہ نے واضح کیا کہ اردن اپنی فوج کو غزہ نہیں بھیجے گا۔ ان کا کہنا تھاکہ اردن کا فلسطین کے ساتھ گہرا تاریخی اور سیاسی تعلق ہے اور ہماری تقریباً نصف آبادی فلسطینی نژاد ہے۔
اگر طاقت کے بل پر غزہ میں امن قائم کرنے کا کہا گیا تو کوئی بھی ملک اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا: شاہ عبداللہ
— BBC News اردو (@BBCUrdu) October 27, 2025
تفصیلات: https://t.co/dIDSy4rR7h pic.twitter.com/dBlPeROM0P
اعداد و شمار کے مطابق اردن میں اس وقت 23 لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزین آباد ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مختلف جنگوں کے نتیجے میں وہاں منتقل ہوئے۔
انٹرویو کے دوران شاہ عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ مصر اور اردن فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے تیار ہیں، تاہم اس عمل میں وقت لگے گا۔ پیس کیپنگ کا مطلب یہ ہے کہ آپ مقامی فلسطینی فورسز کی مدد کریں، نہ کہ خود ہتھیار اٹھا کر گشت کریں۔ اگر ہمیں غزہ میں بندوق اٹھانی ہے تو کوئی ملک اس خطرناک صورتحال کا حصہ نہیں بننا چاہے گا۔
ایک سوال کے جواب میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں حماس اپنے وعدے پر قائم رہے گی اور مستقبل میں غزہ کی سیاست سے دور رہے گی، تو شاہ عبداللہ نے کہا کہ میں حماس کو ذاتی طور پر نہیں جانتا، لیکن قطر اور مصر جو ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں، وہ پُرامید ہیں کہ حماس اپنے وعدے پر قائم رہے گی۔







