خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جمعے کے روز غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنے چھوڑے ہوئے گھروں کی طرف واپس جانے لگے۔ اسرائیلی افواج نے کچھ علاقوں سے انخلا شروع کر دیا ہے جبکہ غزہ شہر کی جانب ایک بڑی تعداد میں لوگ شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی کے رہائشی اسماعیل زیدا نے بتایا کہ ان کا گھر ابھی کھڑا ہے لیکن اردگرد کے علاقے تباہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی دوپہر کو فعال ہو گئی ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے جمعے کی صبح اس معاہدے کی منظوری دی جس کے بعد فوج نے 24 گھنٹوں میں مکمل جنگی کارروائیاں روکنے کا عمل شروع کیا۔

مزید براں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی آئندہ دنوں میں شروع ہوگی جبکہ درجنوں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج غزہ میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک حماس اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر نگرانی تیار کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ کے کچھ شہری علاقوں سے واپس بلایا جا رہا ہے جبکہ نصف علاقے پر ان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔


جنگ بندی کے بعد امدادی قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہونے کی امید ہے۔ درجنوں ٹرک خوراک اور طبی امداد لے کر غزہ میں داخل ہوں گے تاکہ ان لاکھوں بے گھر افراد کی مدد کی جا سکے جو پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

واضع رہے کہ رپورٹ کے مطابق غزہ کے جنوبی علاقے خانیونس میں کچھ اسرائیلی فوجی واپس سرحد کی سمت چلے گئے ہیں جبکہ بعض مقامات پر اب بھی گولہ باری کی آوازیں سنائی دی جا رہی ہیں۔ وسطی علاقے نصیرات میں بھی کچھ اسرائیلی چوکیوں کو ہٹا لیا گیا ہے مگر رات گئے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

بحیرہ روم کے ساحل کے ساتھ ساتھ غزہ شہر کی طرف بڑھنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اب بھی علاقے میں خوف کی فضا ہے لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ یہ جنگ بندی پائیدار امن کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگی۔