ترکیہ پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں توماسو نے بتایا کہ وہ فلسطینیوں کے لیے کچھ مثبت کرنا چاہتے تھے، اسی جذبے کے تحت فلوٹیلا مشن میں شامل ہوئے۔ اسرائیلی جیل میں وقت گزارنا انتہائی سخت تھا۔ میرے بیشتر ساتھی ترکیے سے تھے اور تقریباً سب ہی مسلمان تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب ان کے ساتھی نماز پڑھنے کی کوشش کرتے تو اسرائیلی فوجی انہیں روکتے، اسی لمحے مجھے محسوس ہوا کہ مجھے ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور میں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔
توماسو کا کہنا تھا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں ایسا لگا، جیسے ان کی زندگی میں نیا جنم ہوا ہے، یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور وہ دل سے مطمئن ہیں۔







