اسرائیل کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے جب اس کے مسلح فوجیوں نے تقریباً 40 جہازوں پر چڑھائی کر کے انہیں غزہ پہنچنے سے روک دیا۔
یہ جہاز اسرائیلی بحری ناکہ بندی توڑ کر فلسطینیوں کے لیے امداد لے جا رہے تھے۔ کارروائی کے دوران 400 سے زائد غیر ملکی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔
بارسلونا میں مظاہرین نے کئی اسٹورز اور ریستورانوں کی کھڑکیوں پر اسرائیل مخالف نعرے لکھے یا شیشے توڑ ڈالے۔
ان میں اسٹاربکس، برگر کنگ اور سپر مارکیٹ چین کیرفور شامل تھیں۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ یہ کمپنیاں اسرائیل کی غزہ پر جارحیت میں شریک ہیں۔ ایک مظاہرین اکرام ازاہومارس نے کہا کہ احتجاج ضروری ہے مگر دکانوں کی توڑ پھوڑ درست طریقہ نہیں۔
اٹلی میں طلبہ نے میلان اور روم کی یونیورسٹیوں پر قبضہ کر لیا جبکہ بولونیا یونیورسٹی کے داخلی راستے ٹائروں سے بند کر دیے۔
تورین میں سیکڑوں مظاہرین نے شہر کی رنگ روڈ پر ٹریفک روک دیا۔ روم میں ڈاکٹرز، نرسز اور فارماسسٹوں نے "فلیش موب" کا اعلان کیا، جس میں وہ غزہ میں ہلاک ہونے والے 1,677 طبی کارکنوں کے نام پڑھ کر روشنیوں کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
اٹلی میں یونینز نے عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور ملک بھر میں 100 سے زائد ریلیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
اٹلی کے وزیرِ دفاع گوئیدو کروسیٹو نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے ٹریفک یا دکانیں بند کرنے سے فلسطینی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
پورے یورپ میں ڈبلن، پیرس، برلن اور جنیوا میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی کارروائی کے خلاف مظاہرے کیے۔
اس کے علاوہ بیونس آئرس، میکسیکو سٹی اور کراچی میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ استنبول میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے: "اسرائیل انسانیت کا قتل عام کر رہا ہے، صرف غزہ کا نہیں" اور "خاموش نہ رہو، کھڑے ہو جاؤ۔"
فلسطینی حکام کے مطابق غزہ پر جاری جنگ میں اب تک 66 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی جس میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد مارے گئے اور 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔







