خبررساں ادارے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں متعدد یورپی ممالک نے اپنی فوج کے محدود دستے گرین لینڈ بھیجے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے قطب شمالی کے دائرے میں واقع اس جزیرے کو امریکا میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے۔
روسی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہاکہ اگر گرین لینڈ کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا اور وہاں روس کے خلاف فوجی صلاحیتیں پیدا کی گئیں تو ہم مناسب جوابی اقدامات کریں گے، جن میں فوجی اور تکنیکی تدابیر بھی شامل ہوں گی۔
🇷🇺 FM Lavrov: If Greenland is militarized and used against Russia, Moscow will respond with appropriate military-technical measures pic.twitter.com/8fp4VdYNY9
— Sputnik (@SputnikInt) February 11, 2026
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق اپنے سابق بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو کے ساتھ وہاں امریکی موجودگی بڑھانے کے حوالے سے اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل نہ کیا تو روس یا چین وہاں اثر و رسوخ قائم کر سکتے ہیں۔
لاوروف نے مزید کہا کہ اس معاملے کو امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کو باہمی طور پر طے کرنا چاہیے۔ انہوں نے ڈنمارک پر الزام عائد کیا کہ وہ گرین لینڈ کے باشندوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔






