خبررساں ادارے کے مطابق حالیہ ہفتوں میں متعدد یورپی ممالک نے اپنی فوج کے محدود دستے گرین لینڈ بھیجے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں انہوں نے قطب شمالی کے دائرے میں واقع اس جزیرے کو امریکا میں شامل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ واضح رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے زیرِ انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے۔

روسی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی لاوروف نے کہاکہ اگر گرین لینڈ کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا اور وہاں روس کے خلاف فوجی صلاحیتیں پیدا کی گئیں تو ہم مناسب جوابی اقدامات کریں گے، جن میں فوجی اور تکنیکی تدابیر بھی شامل ہوں گی۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے سے متعلق اپنے سابق بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو کے ساتھ وہاں امریکی موجودگی بڑھانے کے حوالے سے اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل نہ کیا تو روس یا چین وہاں اثر و رسوخ قائم کر سکتے ہیں۔

لاوروف نے مزید کہا کہ اس معاملے کو امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کو باہمی طور پر طے کرنا چاہیے۔ انہوں نے ڈنمارک پر الزام عائد کیا کہ وہ گرین لینڈ کے باشندوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کر رہا ہے۔