روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں تیل کی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم گرین لینڈ کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کرنے جا رہے ہیں، چاہے کوئی اسے پسند کرے یا نہ کرے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے یہ قدم نہ اٹھایا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قابض ہو سکتے ہیں اور ہم کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ روس یا چین ہمارے پڑوسی بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ 1951 کے ایک معاہدے کے تحت امریکہ کی فوجی موجودگی پہلے سے گرین لینڈ میں موجود ہے لیکن ایسے معاہدے جزیرے کے مکمل دفاع کی ضمانت نہیں دیتے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ آپ ملکیت کا دفاع کرتے ہیں، لیز کا نہیں، اس لیے امریکہ کو گرین لینڈ کا دفاع کرنا ہوگا، بصورت دیگر چین یا روس وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ تقریباً 57 ہزار آبادی پر مشتمل گرین لینڈ ڈنمارک کی بادشاہت کے تحت ایک خودمختار علاقہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے حکام گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔

ان منصوبوں میں امریکی فوج کے ممکنہ استعمال اور گرین لینڈ کے باشندوں کو بڑی مالی رقوم کی پیشکش شامل ہے تاکہ انہیں ڈنمارک سے علیحدگی اختیار کر کے امریکہ کا حصہ بننے پر آمادہ کیا جا سکے۔

تاہم کوپن ہیگن اور یورپ کے دیگر ممالک کے رہنماؤں نے گرین لینڈ پر امریکی دعوے کو سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔ اگرچہ ڈنمارک اور امریکہ نیٹو کے اتحادی ہیں اور باہمی دفاعی معاہدوں میں جڑے ہوئے ہیں، اس کے باوجود حالیہ بیانات سے سفارتی تناؤ پیدا ہوا ہے۔

منگل کو فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، سپین، برطانیہ اور ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ گرین لینڈ کے مستقبل اور اس کے بین الاقوامی تعلقات کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔