عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ اب تک ہونے والے امریکی حملوں میں کم از کم 35 افراد شہید جبکہ 300 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر جانی نقصان ملک کے جنوبی صوبوں میں ہوا، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی کارروائیوں میں شدت آئی ہے۔
ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق زخمیوں میں متعدد افراد کی حالت تشویش ناک ہے اور مختلف اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔
ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبہ ہٹانے اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
BREAKING: At least 35 people have been killed and 300 wounded in the US attacks on Iran this month, according to Iran’s Health Ministry spokesperson.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 15, 2026
🔴 LIVE updates: https://t.co/MMpESbzt9a pic.twitter.com/YZgY3z68ME
رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں کا زیادہ تر رخ خلیج فارس سے ملحق جنوبی صوبوں کی جانب رہا، جہاں فوجی تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ سائٹس اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے قریبی رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور زیادہ تر معصوم شہری نشانہ بنے، جب کہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں صرف فوجی اہداف تک محدود تھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے ساحلی دفاع، کروز میزائلوں کے ذخائر اور لانچنگ مقامات کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی ایرانی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت اور مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔






