خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، طیارہ متحدہ عرب امارات سے ہانگ کانگ پہنچا تھا۔ مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوئنگ 744 کارگو طیارے کا درمیانی حصہ پانی میں جزوی طور پر ڈوبا ہوا ہے، طیارے کے ڈھانچے میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ایمرجنسی سلائیڈ کھلی ہوئی ہے۔
ہانگ کانگ کے سول ایوی ایشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے فوراً بعد شمالی رن وے سے ہٹ گیا اور سمندر میں جا گرا۔ چاروں عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم دو گراؤنڈ اسٹاف کے ارکان سمندر میں گرنے سے ہلاک ہو گئے۔
یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا۔ حکام کے مطابق، طیارے نے رن وے پر موجود ایک گاڑی کو ٹکر ماری، جو بعد میں سمندر میں جا گری۔ گاڑی میں موجود 30 سالہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا، جب کہ دوسرا 41 سالہ شخص ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔
حادثے کے بعد ایئرپورٹ کا شمالی رن وے عارضی طور پر بند کر دیا گیا، تاہم باقی دو رن وے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس بیورو کے ترجمان نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایئر ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن اتھارٹی حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گورنمنٹ فلائنگ سروس کے ہیلی کاپٹرز اور فائر سروسز ڈیپارٹمنٹ کی کشتیاں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، حادثے کے باعث پیر کو درجن بھر کارگو پروازیں منسوخ کر دی گئیں، تاہم مسافر پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں۔
واضح رہے کہ ہانگ کانگ نے گزشتہ سال نومبر میں اپنے تیسرے رن وے پر فلائٹ آپریشنز کا آغاز کیا تھا، جو آٹھ سال میں مکمل ہونے والا 142 ارب ہانگ کانگ ڈالر (18 ارب امریکی ڈالر) لاگت کا منصوبہ تھا۔







