غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق سیاسی مہم کا سلسلہ گزشتہ ماہ اچانک اس وقت روک دیا گیا جب شہر کے شمالی علاقے وانگ فک کورٹ کی رہائشی عمارتوں میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس میں 159 افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعہ 1980 کے بعد دنیا کی مہلک ترین رہائشی آگ قرار دی جارہی ہے۔
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے انتخاب ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ کا عمل جاری رکھنا استحکام کی علامت ہے، نئی اسمبلی کی ضرورت ہے تاکہ اصلاحات اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کا عمل تیز کیا جا سکے۔
آتش زدگی کی تحقیقات کے لیے جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ پولیس اب تک مختلف تعمیراتی کمپنیوں کے 15 افراد کو غیر ارادی قتل کے شبے میں گرفتار کر چکی ہے۔
اسی دوران حکومت پر تنقید کرنے والے کم از کم تین افراد کو بغاوت کے الزام میں حراست میں لیا گیا، جن میں 24 سالہ طالب علم مائلز کوان بھی شامل ہے، جو متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے پمفلٹ تقسیم کر رہا تھا۔
"While we mourn the victims and support those affected, we must also be united and support reform together... I emphasise everyone should cast their decisive vote," Hong Kong s John Lee told reporters, as the "patriots only" polls opened following November s deadly Tai Po blaze.… pic.twitter.com/U13YASP82X
— Hong Kong Free Press HKFP (@hkfp) December 7, 2025
خیال رہے کہ چند روز قبل ایک یونیورسٹی نے اپنے اسٹوڈنٹ یونین کی سرگرمیاں اس وقت معطل کر دیں، جب کیمپس میں متاثرین کے لیے تعزیتی پیغامات اور انصاف کا مطالبہ سامنے آیا۔
ماضی میں ہانگ کانگ کے انتخابات میں پروڈیموکریسی اور پروبیجنگ کیمپوں میں سخت مقابلہ ہوتا تھا، جہاں پرو ڈیموکریسی گروپ کو اکثر 60 فیصد ووٹ ملتے تھے۔ لیکن 2020 میں بیجنگ کی جانب سے قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کے بعد سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ کئی جمہوری رہنما جیلوں میں ہیں، کچھ سیاست چھوڑ چکے اور کچھ بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: اگر پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیے کے ساتھ نہیں تو ان سے بات چیت ہوسکتی ہے، عطا تارڑ
اس بار بھی بڑے پروڈیموکریسی گروپس (سِوک پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی) انتخابی میدان میں موجود نہیں۔ دوسری جانب حکومت نے پولنگ سے قبل شہر بھر میں انتخابی مہم کا بھرپور ماحول بنانے کی کوشش کی اور پولنگ اوقات بھی بڑھا دیے۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً ایک تہائی موجودہ قانون ساز، جن میں تجربہ کار رہنما ریجینا اِپ اور اسمبلی کے سربراہ اینڈریو لیانگ بھی شامل ہیں، دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہے۔







