غزہ میں جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں نے کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امن معاہدہ انھیں پناہ گاہوں سے نکل کر اپنے گھروں کو واپس جانے کا موقع دے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایمان صابر، جو خان یونس کی رہائشی ہیں کا کہنا تھا کہ وہ اپنا گھر دوبارہ تعمیر کریں گی، وہ غزہ کو دوبارہ تعمیر کریں گی۔
اسی طرح احمد شہیبیر کا کہنا تھا کہ وہ بے صبری سے جبالیا کی پناہ گاہ سے اپنے گھر واپس جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج کا یہ دن ہے ایک بہت بڑی خوشی کا دن ہے۔
امدادی کارکن ایاد عماوی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل معاہدے پر عمل درآمد کے دوران رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی حد تک اس معاہدے کے قائم رہنے کا یقین ہے، مگر کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جذبات ملے جلے ہیں خوشی اور اداسی دونوں ہی ساتھ ہیں۔ اس جنگ میں شہید ہونے والوں کا غم بھی ہے اور بچ جانے والوں کے بہتر مستقبل کی امید بھی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہاں ہر چیز دوبارہ درست کرنی ہوگی، خاص طور پر ذہنی صحت پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کو آگے بڑھا سکیں۔
دوسری جانب، بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق، اس پہلے مرحلے میں حماس کے زیرِ قبضہ تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کا ایک متفقہ حد تک انخلا شامل ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کچھ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور دوسری جانب سے انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ اسرائیلی حکومت اس منصوبے کی منظوری کے لیے ایک اہم اجلاس بلائے گی جس میں اس پر ووٹنگ ہوگی۔ اگر اسے باضابطہ منظوری مل گئی تو فوری طور پر جنگ بندی نافذ ہو جائے گی اور اسرائیلی فوج متفقہ لائن تک پیچھے ہٹ جائے گی۔
ایک سینئر فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی انتظامیہ ابتدائی پانچ دنوں میں روزانہ تقریباً چار سو امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گی۔
خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق اسرائیلی فوج کے پیچھے ہٹنے میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت لگ سکتا ہے، جس کے بعد حماس کو 72 گھنٹے دیے جائیں گے تاکہ وہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کو رہا کرے۔
عہدیدار کے مطابق توقع ہے کہ پیر تک یرغمالیوں کی رہائی شروع ہو جائے گی، لیکن اس کا انحصار حماس پر ہے اگر وہ چاہے تو یہ عمل پیر سے قبل بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔







