عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات امریکی نشریاتی ادارے فاکس اینڈ فرینڈز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے جا رہے ہیں۔ ہم اس کے گارڈین اینجل بننے جا رہے ہیں، اس لیے اس کے عوض ہمیں معاوضہ بھی ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے اور اس کی حفاظت کے بدلے امریکا کو معاوضہ دیا جائے گا، کیونکہ دیگر ممالک بہت امیر ہیں اور انہیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ امریکا یہ سب کچھ مفت میں کرے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا چکا تھا، مگر ایران نے اس کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہاکہ ایرانی ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے دس معاہدے ہو چکے ہیں، اس لیے اب ہم ان کے خلاف بہت سخت کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کے ساتھ جنگ میں ایران کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایران کی بحریہ، فضائیہ اور میزائل صلاحیتیں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی کا واحد راستہ امریکی فوجی مداخلت کا خاتمہ ہے۔ ایرانی فورسز نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے مداخلت جاری رکھی تو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل مزید سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھا ہوا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔

تازہ کشیدگی نے گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا تھا۔