میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی محض عارضی نہ ہو بلکہ ایک جامع اور پائیدار حل کی طرف پیش رفت کی جائے،ایسے کسی بھی عمل کا حصہ بننے کیلئے ایران سنجیدہ ہے جو حقیقی امن کی ضمانت دے سکے۔

انہوں  نے اس موقع پر پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں قابل تعریف ہیں اور تہران ان پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔

انہوں نے امریکی میڈیا کی بعض رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، بعض خبریں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ ایران مذاکرات سے گریزاں ہے، جو کہ حقیقت کے برعکس ہے۔

واضح رہے کہ ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکا کے حکام سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے اور پاکستان کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کا حالیہ دور بھی اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کے حوالے سے ثالثی کرنے والے ممالک کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے۔

تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اصولی مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی مذاکراتی عمل میں شرکت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد خطے میں پائیدار امن کا قیام ہو۔

سفارتی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فریقین مذاکرات کی میز پر آ جاتے ہیں تو یہ خطے میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سفارتی دروازے ابھی بند نہیں ہوئے اور اگر سنجیدہ کوششیں جاری رہیں تو کسی مثبت پیش رفت کا امکان برقرار ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو جواب میں ایکس پر ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’ہم آپ کی جانب سے دی جانے والی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کروانے کی کوشش جاری ہے۔ اور پاکستان کے اس اہم معاملے پر بطور ثالث کے سامنے آنے پر خطے میں خاصی بحث جاری ہے