عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی حفاظت کے حوالے سے ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔

نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی جارحانہ یا براہِ راست اقدام کے نہایت سنگین اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ اگر ہمارے رہبرِ معظم کی جانب کسی نے ہاتھ بڑھایا تو ہم وہ ہاتھ کاٹ دیں گے اور حملہ آوروں کی دنیا کو آگ لگا دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی قیادت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر پر کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کسی نئی محاذ آرائی کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی اور ایران اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ ایران کا یہ سخت ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں آیت اللہ خامنہ ای پر تنقید کرتے ہوئے ایران میں نئی قیادت کی ضرورت کا عندیہ دیا تھا۔

ایران اور امریکا کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب ایران میں خراب معاشی حالات کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری ہے۔

ایران ان پُرتشدد مظاہروں کے پیچھے امریکا کا ہاتھ قرار دیتا ہے، جب کہ صدر ٹرمپ بھی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر گرفتار مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو وہ بڑے حملے کا حکم دیں گے۔