خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشن روم، قرارگاہ خاتم الانبیاء کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں، جسے سرکاری ٹیلی ویژن پر پڑھ کر سنایا گیا کہ امریکا کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں بحری نقل و حرکت اور آمد و رفت پر عائد کردہ پابندیاں غیر قانونی ہیں اور یہ قزاقی کی ایک شکل ہیں۔

قرارگاہ خاتم الانبیاء کے ترجمان نے متنبہ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کو لاحق کسی بھی خطرے کا جواب خلیج کی بندرگاہوں میں بدامنی کی صورت میں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر خلیج اور بحرِ عمان کے پانیوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بندرگاہوں کی سکیورٹی خطرے میں پڑی تو خلیج یا بحرِ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اعلان کیا کہ تہران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ایک مستقل طریقہ کار پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن کے مطابق محاصرہ پیر کے روز جی ایم ٹی کے مطابق دوپہر 14:00 بجے شروع ہوگا، جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں کی طرف جانے والے یا وہاں سے روانہ ہونے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت کی تصدیق کرتے ہوئے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ امریکا 13 اپریل کو واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے والے اور وہاں سے نکلنے والے جہازوں پر محاصرہ نافذ کر دے گا۔

ادھر ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دو ہفتوں کے لیے اعلان کردہ جنگ بندی 22 اپریل کو اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہے گی یا نہیں، کیونکہ جہاں پاکستانی ثالث نے اس پر مسلسل عمل درآمد پر زور دیا ہے، وہیں دونوں فریقین کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

امریکی وفد کی پاکستان سے واپسی کے بعد اپنے پہلے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو آبنائے ہرمز کے محاصرے کا اعلان کیا، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے اور واشنگٹن ایران سے اسے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ  نے کہا ہے کہ وہ جہاز جو ایران کی طرف نہیں جا رہے یا وہاں سے نہیں آ رہے، انہیں گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو یہ بھی بتایا کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک اپنے جہاز بھیجیں گے تاکہ ان بارودی سرنگوں کو ہٹایا جا سکے جو ایران نے آبنائے کے پانیوں میں بچھائی ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ آپریشن کس طرح انجام دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ان کا ملک کسی دباؤ کو تسلیم نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ دشمن آبنائے ہرمز کے مہلک بھنور میں پھنس جائے گا۔