اتوار کی شام حماس کا وفد مصر کے دارالحکومت غزہ پہنچا ہے، حماس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کا مقصد غزہ میں امن کے قیام کے لیے طریقہ کار طے کرنا ہے۔
امریکی صدر کے مجوزہ منصوبے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی پر بھی بات ہوگی۔ حماس کے وفد میں خلیل الحیہ بھی شامل ہیں جو دوحہ میں جن کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ خلیل الحیہ نے دوحہ حملے کے بعد پہلی بار اپنی ویڈیو جاری کی ہے۔
امریکی صدر نے سی این این کے اینکر جیک ٹیپر سے گفتگو میں 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس اقتدار پر قائم رہنے کی کوشش کرے گی تو اسے مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا جائے
گا۔
مزید پڑھیں: غزہ سے کنٹرول ختم نہ کرنے پر حماس کو نیست و نابود کر دیں گے، امریکی صدر نے انتباہ جاری کردیا
ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا حماس نے ہتھیار نہ ڈالنے، غزہ کو کنٹرول میں رکھنے اور یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات سے مشروط کرنے کے مؤقف کے ساتھ ان کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے؟
اس پر ٹرمپ نے مختصر جواب دیا کہ ہم دیکھیں گے اور اس کا جواب وقت آنے پر دیا جائےگا۔







