صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے بعد ایک ایسا فریم ورک تیار کیا گیا ہے جو غزہ میں جنگ کے خاتمے، نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور تعمیرِ نو کے عمل کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت میں مصر، قطر اور ترکی نے اہم ثالثی کردار ادا کیا، جبکہ مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ان کے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے کا اہم حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں پائیدار امن، انسانی امداد کی بحالی، معاشی استحکام اور مؤثر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت غزہ کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی یا حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ ایک نئی فلسطینی حکومت عوامی نمائندگی کی بنیاد پر غزہ کے انتظامی امور سنبھالے گی۔

بیان کے مطابق امن منصوبے میں ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے، جسے بین الاقوامی استحکامی فورس کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس فورس کا مقصد غزہ میں امن و امان برقرار رکھنا، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد خطہ شدید جنگ، انسانی بحران اور یرغمالیوں کے مسئلے سے دوچار رہا، تاہم گزشتہ عرصے کے دوران نمایاں سفارتی پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں غزہ کو دوبارہ کسی بھی قسم کے حملوں کا مرکز بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نئی فلسطینی حکومت عوامی خدمت اور استحکام کو ترجیح دے گی۔

امریکی صدر نے مصر، قطر، ترکی اور مذاکرات میں شریک دیگر فریقین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باعث یہ اہم پیشرفت ممکن ہوئی۔

معاہدے کے مجوزہ نکات کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہ اپنے ہتھیار مرحلہ وار ایک منظم طریقہ کار کے تحت جمع کرائیں گے، جبکہ اسرائیلی فوج بھی اسی دوران مرحلہ وار غزہ سے انخلا کرے گی۔ اسلحے کی گنتی، محفوظ ذخیرہ اور نگرانی کے تمام مراحل ایک بین الاقوامی تصدیقی نظام کی زیر نگرانی مکمل کیے جائیں گے تاکہ معاہدے پر شفاف انداز میں عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔

غزہ بورڈ آف پیس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مصر، قطر، ترکی، امریکا اور حماس کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی کے بعد کے مرحلے کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت غزہ کے سول اور انتظامی امور ’’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG)‘‘ کے سپرد کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں، بنیادی شہری سہولیات، مالیاتی معاملات اور انتظامی نظام کی نگرانی کرے گی۔ منصوبے میں اس کمیٹی کی خودمختاری کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی فلسطینی سیاسی یا عسکری دھڑے کی مداخلت نہ ہو۔

منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ غزہ میں موجود بھاری ہتھیار، اسلحے کے ذخائر، عسکری تنصیبات اور زیرزمین سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک کو مرحلہ وار ختم کرکے بین الاقوامی نگرانی میں محفوظ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک بین الاقوامی تصدیقی کمیشن، استحکامی فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس مشترکہ طور پر نگرانی کے فرائض انجام دیں گی، جبکہ ہتھیار نہ اسرائیل کے حوالے کیے جائیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو منتقل کیے جائیں گے۔

ادھر حماس کے ایک وفد کے رکن نے اس پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے اپنی تمام ذمہ داریوں کی مکمل ادائیگی سے مشروط ہوگا، اگر اسرائیل طے شدہ نکات پر عمل نہیں کرتا تو معاہدے کے دیگر حصوں پر عمل درآمد بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

غزہ بورڈ آف پیس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پہلی مرتبہ حماس نے اپنے تمام ہتھیار ترک کرنے سے متعلق ایک قابلِ عمل منصوبے پر باضابطہ رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے بعد اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی راہ ہموار ہوگی، اس منصوبے سے غزہ کے عوام کو بہتر مستقبل اور اسرائیل کو سکیورٹی کے حوالے سے اعتماد فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اس منصوبے کو مثبت پیشرفت قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی مکمل طور پر عملی اقدامات پر منحصر ہوگی،  اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا تمام مسلح گروہ واقعی غیر مسلح ہوتے ہیں، بین الاقوامی نگرانی مؤثر رہتی ہے اور اسرائیل بھی معاہدے کے مطابق غزہ سے مرحلہ وار انخلا مکمل کرتا ہے یا نہیں۔

ادھر غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ سفارتی اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم ان کے نزدیک حقیقی کامیابی اس وقت ہوگی جب جنگ مکمل طور پر بند ہوگی، فضائی حملے ختم ہوں گے، بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے اور غزہ میں معمولاتِ زندگی بحال ہو جائیں گے۔