آج وہی حکومت اپنے ہاتھوں ختم ہوچکی ہے، یہ عالمی سیاست میں ایک اہم تبدیلی ہے، وہ تبدیلی جس کے لیے امریکا اور اسرائیل سمیت ان کے اتحادی سالوں سے کوشش میں تھے، یہ تبدیلی اچانک نہیں بلکہ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی ہے جو غزہ امن بورڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مئی 2026 تک بورڈ آف پیس ایک باقاعدہ بین الاقوامی ادارے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، پاکستان سمیت جس کے کل 28 ممالک رکن ہیں۔ 


حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری ملازمین معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھیں گے، تاہم اب وہ "غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی" (این سی اے جی) کی ذمہ داری کے تحت کام کے لیے تیار عوامی ملازمین" تصور کیے جائیں گے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے لیے تمام انتظامی مراحل مکمل کر لیے گئے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ اقدام بڑی حد تک علامتی نوعیت کا ہے اور اس کا عملی اثر محدود ہے۔ مبصرین اسے حماس کی جانب سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں کہ تنظیم امریکی صدر ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے کے مطابق غزہ کا انتظام نئی کمیٹی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حماس کا 19 سال سے قائم غزہ حکومت ختم کرنے کا اعلان، اب کون کنٹرول سنبھالے گا؟

یہ پیش رفت اکتوبر 2025 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا تسلسل ہے۔ حماس کے مذاکراتی سربراہ خلیل الحیہ نے اکتوبر میں فلسطینی عوام سے خطاب کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی قید میں موجود سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا، اور امدادی سامان کی ترسیل کے لیے رفح سرحد کھولنے جیسے اقدامات شامل تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے میں واضح طور پر درج ہے کہ غزہ کو ایک عبوری، غیر سیاسی تکنیکی کمیٹی کے ذریعے چلایا جائے گا، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی "بورڈ آف پیس" کرے گا جس کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کریں گے۔ منصوبے کی ایک شق میں یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ حماس اور دیگر فلسطینی جماعتیں غزہ کی حکمرانی میں براہِ راست یا بالواسطہ کوئی کردار ادا نہیں کریں گی۔

اس منصوبے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی توثیق بھی حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر "غزہ کی انتظامیہ کے لیے قومی کمیٹی" تشکیل دی گئی، جس کی قیادت علی شعث کے سپرد کی گئی، جو ماضی میں ایک بلدیاتی سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صنعتی زونز کے ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس کمیٹی کے بیشتر ارکان کے فلسطینی اتھارٹی سے قریبی مراسم بتائے جاتے ہیں۔

مہینوں تک یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔ نہ تو ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ارکان کے ناموں پر حتمی اتفاق ہو سکا، نہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ان کی منظوری کا کوئی واضح عندیہ ملا۔ سعودی اخبار "الشرق الاوسط" کی رپورٹس کے مطابق حماس اپنے ہتھیار ڈالنے کے معاملے پرتاخیری حربے پر کاربند رہی جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو بھی آئندہ کنیسٹ انتخابات کے پیشِ نظر اسی طرز کی تاخیری حکمتِ عملی اپناتے دکھائی دیے۔

اسی دوران زمینی حقائق بھی کچھ مختلف نہ تھے۔ رواں سال مئی میں القسام بریگیڈ کے سابق سربراہ عزالدین الحداد اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، اور ان کے بعد محمد عودہ کو نیا فوجی سربراہ مقرر کیا گیا، جن کی شہادت کا دعویٰ بھی اسرائیل نے حال ہی میں کیا۔ جنگ بندی کے باوجود مسلسل اسرائیلی کارروائیوں میں سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور غزہ میں مجموعی شہادتوں کی تعداد 73 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

کیا یہ مستقل حل ہے؟ صحافتی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی اکثریت اسے علامتی قدم قرار دے رہی ہے، حقیقی اقتدار کی منتقلی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی تاحال باضابطہ طور پر غزہ میں داخل ہی نہیں ہو سکی، اور حماس کی مسلح تنظیم القسام بریگیڈ کا ہتھیار ڈالنے کا عمل بھی مکمل نہیں ہوا۔ عملاً حماس کے سیکورٹی ڈھانچے، اس کی مسلح موجودگی اور معاشرتی اثر و رسوخ تاحال غزہ میں برقرار ہیں۔


اس سے قبل جنوری 2025 میں امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیل اپنی بھرپور عسکری قوت استعمال کرنے کے باوجود حماس کی حکومت کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا، جو اسرائیل کی جنگ کے بنیادی اہداف میں سے ایک تھا۔ یوں اگر اب حماس خود اپنی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کر رہی ہے، تو یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سیاسی و سفارتی دباؤ نے وہ کام کر دکھایا جو براہِ راست عسکری کارروائی نہ کر سکی۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ حماس نے اقتدار کی علامتی منتقلی کو ایک "خیر سگالی" کے اقدام کے طور پر پیش کر کے خود کو ایک لچکدار اور امن کے عمل میں شریک فریق کے طور پر بھی منوانے کی کوشش کی ہے۔

ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی حتمی تشکیل، اس کے ارکان پر اسرائیل اور امریکہ کی منظوری، حماس کا مکمل طور پر غیر مسلح ہونا، اور بین الاقوامی سلامتی فورس کی تعیناتی، یہ سب وہ مراحل ہیں جو ابھی باقی ہیں۔ "بورڈ آف پیس" کے ارکان کے ناموں کا باقاعدہ اعلان بھی تاحال متوقع ہے، اگرچہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے حال ہی میں بلغاریہ کے سفارت کار نکولے ملادینوف کو اس بورڈ کا ڈائریکٹر جنرل نامزد کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

انیس سالہ حکمرانی کے خاتمے کا یہ اعلان ایک اہم علامتی سنگِ میل ضرور ہے لیکن غزہ میں حقیقی اقتدار کی منتقلی اور مستقل امن کے قیام تک کا سفر ابھی طویل دکھائی دیتا ہے۔