ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں القسام کے قائدین محمد السنوار، رائد سعد، محمد شبانہ اور حکم العیسیٰ بھی شہید ہوئے۔

اپنے بیان میں انہوں نے ابو عبیدہ کو ان کے اصل نام حذیفہ الکحلوت کے نام سے متعارف کروایا، جب کہ یحییٰ السنوار کے بھائی محمد السنوار کے بارے میں کہا کہ وہ القسام بریگیڈ کے شہید سربراہ محمد الضیف کے بعد تنظیم کے سربراہ تھے۔

حذیفہ الکحلوت القسام کے میڈیا ونگ ’الاعلام العسکری‘ کے سربراہ بھی تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ابو عبیدہ نے 20 سال سے زائد عرصے تک القسام بریگیڈ کے ترجمان کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کیں اور میڈیا ونگ کو جدید خطوط پر منظم کیا۔

نئے ترجمان نے کہا کہ حذیفہ الکحلوت اپنے پیچھے اپنا لقب ’ابو عبیدہ‘ چھوڑ کر گئے ہیں، جب کہ حماس کے جاری کردہ بیان میں نئے ترجمان کا نام بھی ابو عبیدہ بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایک نئی تصویر جاری کی ہے جس میں القسام بریگیڈ کے حال ہی میں شہید کیے گئے ترجمان ابو عبیدہ کو محمد الضیف اور رافع سلامہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ اس تصویر کے ساتھ ایک ویڈیو بھی منسلک کی گئی ہے جس میں ایک حماس ٹھکانے کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں ان کے بقول ابو عبیدہ مقیم تھے۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ میں ایک ملٹری کارروائی کے دوران حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ تازہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ترجمان اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ابو عبیدہ تصویر میں حماس کے فوجی ونگ کے کمانڈر محمد الضیف اور خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر رافع سلامہ کے ساتھ موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے کہا کہ ابو عبیدہ ہمیشہ نقاب لگا کر ویڈیو پیغامات میں دکھائی دیتے تھے، لیکن وہ ہماری نظر سے پھر بھی بچ نہیں سکے۔