حماس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے معاہدے کی خواہاں ہے جو فلسطینی عوام کی خواہشات اور بنیادی مطالبات کی عکاسی کرے۔
حماس کے سینئر رہنما اور ترجمان فوزی برھوم نے کہا کہ "ہمارے مذاکراتی وفود اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ تمام رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور ایسا معاہدہ سامنے آئے جو فلسطینیوں کی امنگوں پر پورا اترے۔
ان کے مطابق، حماس وفد نے جنگ بندی معاہدے کے لیے چند شرائط پیش کی ہیں جن میں مستقل اور جامع جنگ بندی، تاکہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت مکمل طور پر ختم ہو۔اس کے علاوہ اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا، کسی بھی قسم کی عسکری موجودگی کے بغیر۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کی امداد کا بلا روک ٹوک داخلہ، تاکہ خوراک، پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
فوزی برھوم نے بتایا کہ بے گھر فلسطینیوں کی واپسی کی ضمانت، تاکہ جبری طور پر نکالے گئے افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور قیدیوں کے منصفانہ تبادلے کا معاہدہ، تاکہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کا فوری آغاز کیا جائے جسے ایک قومی فلسطینی ماہرین کی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی نگرانی میں انجام دیا جائے۔
حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ ماضی کی طرح اس بار بھی مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ نیتن یاہو ہر مرحلے پر جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کرتے آ رہے ہیں تاکہ کسی پائیدار امن معاہدے تک نہ پہنچا جا سکے۔
فوزی برھوم نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام اپنی جدوجہد، اتحاد اور انصاف پر مبنی مؤقف پر قائم ہیں اور کسی بھی ایسے منصوبے کو ناکام بنائیں گے جو ان کے قومی مقصد کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔
واضح رہے کہ یہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب غزہ میں گزشتہ دو سال سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شدید انسانی بحران پیدا ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے اور قحط جیسی صورتحال جنم لے رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے اب تک کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔







