عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے آفس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں لاشیں ریڈ کراس کے ذریعے غزہ میں اسرائیلی فورسز کے حوالے کی گئیں اور انہیں شناخت کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس نے تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کر دیا تھا جس کے بدلے میں اسرائیل نے بھی تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ حماس جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے 28 اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات بھی اسرائیل کے حوالے کرے گا ، جس کے تحت اب تک 15 لاشیں اسرائیل کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس یرغمالیوں کی باقی لاشیں حوالے کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جب کہ حماس کا مؤقف ہے کہ لاشوں کی تلاش  میں وقت لگ رہا ہے کیونکہ غزہ میں وسیع تباہی کے باعث سینکڑوں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق منگل کے روز حماس سے جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا تھا جس کے بعد اسرائیلی نے غزہ پر جوابی حملے کیے تھے جس کے نتیجے میں104 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 46 بچے اور 20 خواتین شامل تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے خان یونس کے مشرقی علاقوں میں کم از کم 10 فضائی حملے کیے، جب کہ شمالی غزہ میں ٹینک گولہ باری بھی کی گئی۔ 

یاد رہے کہ جنگ نے غزہ کے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے، جن میں سے بیشتر کئی بار اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ بہت سے لوگ اب بھی اپنے علاقوں میں واپس جانے سے گریزاں ہیں، اس خوف سے کہ لڑائی کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔