بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملے کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے۔ عہدیدار کے مطابق حملے میں انہیں پیروں پر معمولی نوعیت کے زخم آئے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ ایران میں ایک حساس مقام کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا اور اس کے دوران سپریم لیڈر کے قریبی حلقے کے افراد بھی موجود تھے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے مجتبیٰ خامنہ ای کو حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ’’رمضان جنگ کا زخمی مجاہد‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے عزم اور قیادت کو سراہا ہے۔
تاہم ایران کی حکومت کے ایک مشیر یوسف پزشکیان نے زخمی ہونے کی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں پھیلائی جانے والی اطلاعات درست نہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ایران کی اعلیٰ مذہبی و سیاسی باڈی مجلس خبرگان نے ووٹنگ کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا ہے۔ اس انتخاب کے بعد وہ ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں اور انہیں ملک کے اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی منصب کا سربراہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے ایران کے طاقتور حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور انہیں سابق سپریم لیڈر کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی گوگل، مائیکروسافٹ اور بینکوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ایران کی اہم عسکری تنظیم پاسداران انقلاب کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں اور ان کے دور میں ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر ان کا اثر نمایاں رہنے کا امکان ہے۔
ایرانی قیادت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھا جائے اور نئے سپریم لیڈر کی قیادت میں ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں قیادت کی تبدیلی اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آنے والے دنوں میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے۔







