خبررساں ادارے العربیہ کے مطابق ان کا یہ رد عمل یوکرین صدر کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکا سے ایران پر حملہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر یوکرینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ولود یمیر زیلنسکی اپنے کرپٹ جرنیلوں کی جیبیں بھرنے اور اس نام نہاد غیر قانونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی اور یورپی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بہا رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

لیکن دوسری طرف وہ خود اسی چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر امریکی حملے کی ڈھٹائی سے دعوت دے رہے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی ایک خودمختار ریاست ہے اور اسے عوام کا دفاع کر نے کے لئے غیر ملکیوں کے آگے گڑگڑانے کی ضرورت نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ روس کے ساتھ جنگ میں آپ کی فوج کے برعکس جسے غیر ملکی مدد حاصل ہے اور جس میں بڑی تعداد میں کرائے کے فوجی لڑ رہے ہیں، ہم ایرانی جانتے ہیں کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے اور ہمیں غیر ملکیوں سے مدد مانگنے کی ضرورت نہیں۔