میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو معلوم ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک کارروائی کے نتیجے میں زخمی ہوئے،اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا۔
نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں مختلف اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور امریکی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران میں اسکول پر ہونے والے حملے کے واقعے کی بھی تحقیقات جاری ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات چاہتے ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
دوسری جانب پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے پر زخم آئے تھے،حالیہ حملوں کے بعد سے ایرانی سپریم لیڈر عوامی سطح پر زیادہ نظر نہیں آئے جس کے باعث مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ادھر ایران کے حکام کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ سپریم لیڈر کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں، تاہم وہ خیریت سے ہیں اور بدستور اپنے سرکاری و دفتری امور انجام دے رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت مکمل طور پر فعال ہے اور حکومتی معاملات معمول کے مطابق چل رہے ہیں، بعض غیر مصدقہ اطلاعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ سپریم لیڈر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا نے مجتبیٰ خامنہ ای کی معلومات پر 1 کروڑ ڈالر انعام رکھا ہے، علی لاریجانی
واضع رہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف بیانات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں، جن کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے،ایسے بیانات کا مقصد سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے، جبکہ اصل صورتحال کے بارے میں حتمی معلومات وقت کے ساتھ ہی سامنے آئیں گی۔







