دُرِ فشاں سلیم کو ڈرامہ سیریل ’درِ نجات‘ میں زریاب کے کردار میں شاندار اداکاری پر بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، تاہم گزشتہ چند اقساط کے دوران انہیں سوشل میڈیا پر منفی تبصروں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جہاں بعض صارفین نے ان کی اداکاری کو سراہنے کے بجائے ان کی ظاہری جسامت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایسے میں سابق مس یونیورس پاکستان روما ریاض اداکارہ کی حمایت میں سامنے آئیں۔ انہوں نے اتوار کو انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے خواتین کی جسمانی ساخت پر تنقید اور ان کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔

روما ریاض نے لکھا کہ دُرِ فشاں سلیم جیسی خوبصورت اور باصلاحیت خاتون کے بارے میں گفتگو کا محور صرف ان کے بازوؤں کو بنتے دیکھ کر انہیں واقعی دکھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصور کریں، کوئی فنکار اپنے کام کے لیے پوری محنت کرتا ہے، لیکن لوگ اس کی صلاحیتوں کی تعریف کرنے کے بجائے اس کی ظاہری شکل میں خامیاں تلاش کرنے لگتے ہیں۔

دُرِ فشاں سلیم کی جسمانی ساخت پر تبصرے اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آئے جب انہوں نے جمعے کو نشر ہونے والی ’درِ نجات‘ کی 20ویں قسط میں بغیر آستینوں والا لباس پہنا۔

اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے روما ریاض نے کہا کہ ہم خواتین کے جسموں پر تبصرے کرنے میں کتنے بے باک ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، لیکن اکثر ایک خاتون ہی دوسری خاتون کو یہ احساس دلانے میں پیش پیش ہوتی ہے کہ اس کا جسم معاشرے کے طے کردہ معیار کے مطابق نہیں۔

روما ریاض نے مزید کہا کہ خواتین پر ایک خاص انداز میں دکھائی دینے کا دباؤ پہلے ہی تھکا دینے والا ہے، جب کہ اس طرح کے واقعات نوجوان لڑکیوں کے لیے اپنے جسم اور شخصیت کو قبول کرنا مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسی نسل پروان چڑھے گی جو یہ سمجھتی ہو کہ کسی انسان کی قدر کا تعین اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ معاشرے کے مقرر کردہ خوبصورتی کے معیارات پر کتنا پورا اترتا ہے۔

دُرِ فشاں سلیم اس سے قبل بھی مختلف انٹرویوز میں جسمانی ساخت کی بنیاد پر تنقید کے مسئلے پر بات کر چکی ہیں۔ تفریحی صنعت میں اداکاروں، بالخصوص خواتین، کو ان کی ظاہری شکل و صورت کی بنیاد پر جانچنے کا رجحان ایک وسیع مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

کسی فنکار کو اس کی جسمانی ساخت تک محدود کردینا اس کی صلاحیتوں اور فن کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح خوبصورتی کے مخصوص معیارات پر پورا اترنے کا دباؤ نہ صرف فنکاروں بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی عدم تحفظ اور اضطراب کا سبب بن سکتا ہے جو انہیں اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔