عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق گرفتاریاں اسپین کے پانچ شہروں بارسلونا، میڈرڈ، گیرونا، اے کرونا اور ویلنسیا میں کی گئیں۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت عمل میں آئیں جب گینگ اسپین میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا تھا، جہاں وینزویلا کے تارکینِ وطن کی بڑی تعداد مقیم ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران مصنوعی منشیات اور کوکین کی بڑی مقدار ضبط کی گئی، جب کہ دو ایسی لیبارٹریاں بھی بند کردی گئیں جو ”ٹوسی“ نامی مرکب تیار کرتی تھیں، یہ کوکین، ایم ڈی ایم اے اور کیٹامین کا امتزاج ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ تحقیقات کا آغاز گزشتہ سال اس وقت ہوا جب ہسپانوی پولیس نے بارسلونا میں گینگ کے سرغنہ ”نینو گوریرو“ کے بھائی کو گرفتار کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکا نے رواں سال کے آغاز میں ٹرین ڈی اراگوا کو عالمی "دہشت گرد تنظیم" قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق گینگ کے کارکن کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں جہازوں کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
امریکا نے حالیہ مہینوں میں ایسے جہازوں کو نشانہ بنانے کی مہم تیز کردی ہے جن پر گینگ کے ارکان کے سوار ہونے کا شبہ ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ستمبر کے اوائل سے اب تک 18 جہازوں پر حملوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تصدیق کی کہ بحیرہ کیریبین میں تازہ حملے میں تین افراد مارے گئے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی کہ ان حملوں میں نشانہ بننے والے واقعی منشیات کے اسمگلر تھے یا امریکی سلامتی کے لیے خطرہ۔
مزید پڑھیں: وینزویلا پر ممکنہ امریکی حملہ، صدر نکولس مادورو کے دن گنے جاچکے ہیں ٹرمپ
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے ان حملوں کی ’ماورائے عدالت قتل‘ کے طور پر مذمت کرتے ہوئے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کشتیوں پر سوار افراد کے غیرقانونی قتل کو فوری طور پر روکے۔
دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مادورو نے کہا کہ امریکا کی منشیات کے خلاف جنگ دراصل ایک سیاسی حربہ ہے، جس کا مقصد وینزویلا کی خودمختاری کو نقصان پہنچانا اور میری حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔







