خیال رہے کہ 2024 میں عوامی احتجاج کے بعد اُس وقت کی بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھارت چلی گئی تھیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔

شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد سزائے موت کا سامنا ہے، جبکہ بنگلادیشی حکومت ان کی حوالگی کے لیے بھارت سے متعدد مرتبہ باضابطہ درخواست کرچکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیشی وزارت خارجہ کے عہدیدار اے کے ایم شاہد الکریم نے وزیراعظم طارق رحمان کے آئندہ ہفتے بھارت کے ممکنہ دورے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورے کے لیے پہلے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے بھارتی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کی حوالگی کے معاملے پر اپنی کوششیں تیز کریں۔

دوسری جانب بھارت کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کی جانب سے شیخ حسینہ کی حوالگی کی درخواست کا قانونی طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا جا رہا ہے اور معاملہ فی الحال زیرِ غور ہے۔