عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہیکرز کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات انڈین صنعت کار انیل امبانی کے رِلائنس گروپ سے حاصل کی گئی ہیں۔
Files relating to India s largest nuclear power plant Kudankulam exposed in data breachhttps://t.co/yhHiE1HS8Y
— Economic Times (@EconomicTimes) July 15, 2026
یاد رہے کہ انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں واقع کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ ملک کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کے جوہری توانائی کے منصوبے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
رِلائنس گروپ نے رائٹرز کو جاری بیان میں تصدیق کی کہ تیسرے فریق کے انڈین ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کنندہ یوٹا کے سرور پر محفوظ اس کے ڈیٹا میں جزوی دراندازی ہوئی ہے، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی معلومات متاثر یا افشا ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق رائٹرز نے لیک ہونے والی دستاویزات کا جائزہ لیا، جن کی تاریخیں 2016 سے وسط 2025 تک کی ہیں، تاہم خبر رساں ادارہ ان دستاویزات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
مبینہ طور پر لیک ہونے والی فائلوں میں پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، معائنوں اور اجلاسوں کا ریکارڈ، آلات کی جانچ سے متعلق رپورٹس اور انشورنس دستاویزات شامل ہیں۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کے مطابق اگر یہ معلومات درست ہیں تو ان سے جوہری تنصیبات کے معاون نظام، سپلائرز اور سکیورٹی کے ڈھانچے سے متعلق حساس معلومات سامنے آ سکتی ہیں، جو سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
A huge cache of files related to India’s largest nuclear power plant at Kudankulam, Tamil Nadu, has reportedly been leaked online in a data breach. 🧵
— Firstpost (@firstpost) July 15, 2026
رپورٹ کے مطابق انڈیا کی سرکاری کمپنی نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا، رِلائنس گروپ کے ساتھ رابطے میں ہے، جب کہ بھارتی سائبر سکیورٹی ادارہ CERT-In بھی اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
دوسری جانب یوٹا نے اپنے بیان میں کہا کہ 29 مئی کو رِلائنس انفراسٹرکچر کے سرور پر مشکوک سرگرمی کا پتہ چلنے پر اسے فوری طور پر روک دیا گیا تھا اور ممکنہ رینسم ویئر حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں کمپنی کو ڈیٹا لیک کے دعوؤں سے آگاہ کیا گیا۔
انڈیا کے محکمہ جوہری توانائی، نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور وزیراعظم نریندر مودی کے دفتر نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ کڈانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کا نام اس سے قبل بھی 2019 میں ایک سائبر حملے سے جوڑا گیا تھا، جب شمالی کوریا سے منسلک ایک ہیکر گروپ کا میل ویئر پلانٹ کے انتظامی نیٹ ورک میں پایا گیا تھا، تاہم اس وقت حکام نے کہا تھا کہ پلانٹ کا آپریشنل نظام متاثر نہیں ہوا تھا۔






