اسرائیلی فوج کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جنوبی لبنان کے گاؤں کفر تبنیت میں حزب اللہ کے ایک مشتبہ ڈرون یا اینٹی ٹینک میزائل حملے میں 401ویں آرمڈ بریگیڈ کی 52ویں بٹالین کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل دور گیدالیا بن شمعون سمیت ٹینک میں موجود چاروں فوجی ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔ ہلاک ہونے والے بٹالین کمانڈر کی عمر 32 برس تھی اور وہ شمالی اسرائیل کے کیبوتز بیت ہاشیتا سے تعلق رکھتے تھے۔
چند گھنٹے بعد اسی علاقے میں حزب اللہ کے ایک اور ڈرون حملے میں اسرائیلی کمانڈو بریگیڈ کے پانچ فوجی زخمی ہوئے، جن میں ایک ریزرو افسر کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
دوسری جانب لبنان کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعہ کی صبح سے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 18 افراد شہید اور 33 زخمی ہوئے ہیں۔
لبنانی میڈیا کے مطابق شرقیا، حروف، کفر رمان، کفر جوز، کفر صیر، میفدون اور دیگر علاقوں میں ڈرون اور فضائی حملے کیے گئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں کمانڈ سینٹرز، راکٹ لانچرز اور عسکری تنصیبات شامل تھیں۔
آئی ڈی ایف کے مطابق مشرقی بقاع وادی میں حزب اللہ کے دو فعال کمانڈ مراکز پر حملوں کے دوران درجنوں جنگجو مارے گئے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت میں لبنان میں جنگ کے خاتمے کا ذکر بھی شامل بتایا جا رہا ہے، تاہم اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام مسلسل مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو معاہدے کی روح متاثر ہوگی، جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پورے لبنان کو جلا دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو دنیا پر واضح کر دینا چاہیے کہ اس کے شہریوں کی سلامتی اور فوجیوں کے خون پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
بین گویر نے کہا کہ ہر اسرائیلی ماں کے آنسوؤں کے بدلے ہزار لبنانی ماؤں کو رونا چاہیے۔
#IGR: Smoke rose over southern Lebanon following a wave of Israeli airstrikes. Flares and projectiles were also seen across the region overnight as fighting intensified. Lebanon s health ministry said at least 18 people were killed and 33 others wounded in the strikes. pic.twitter.com/bgnOLH37B8
— India Global Review (@IGR_Media) June 19, 2026
یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے تحت لبنان میں جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ جین نول بیروٹ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ جنگ بندی کا تقاضا کرتا ہے تو اسرائیلی حکومت کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے اور امریکا کو بھی اس حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔
امریکی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ جمعہ کو متوقع بعض مذاکراتی ملاقاتیں اسی کشیدگی کے باعث ملتوی یا منسوخ ہونے کا خطرہ رکھتی ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں لبنان میں اسرائیلی حملوں پر تنقید کر چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ یہ کارروائیاں ایران کے ساتھ ہونے والے بڑے سفارتی معاہدے پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
جنوبی لبنان میں تازہ جھڑپوں کے بعد خطے میں امن کی کوششوں کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہے، جبکہ جنگ بندی اور امریکا-ایران مفاہمتی عمل کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔






